تخصیص بھی یہ ان کی ستم ہے کرم نہیں
تخصیص بھی یہ ان کی ستم ہے کرم نہیں
کہتے ہیں وہ عدو سے مجھے آپ کم نہیں
پوچھا جو میں نے مجھ سے نہ ملنے کی کیا وجہ
بولے یہی کہ آپ کی قسمت میں ہم نہیں
تجھ سے امید لطف رقیبوں کو ہو تو ہو
مجھ کو تو یہ خیال بھی تیری قسم نہیں
دشمن سے دوستی کا ارادہ نہ کیجیے
ایسا ہوا تو آپ سمجھ لیں کہ ہم نہیں
ہم پر ستم تو ہو ستم ناروا نہ ہو
بندہ نواز اس کے روادار ہم نہیں
کہتے ہیں وہ تمہیں کو مبارک کرے خدا
اچھا یہی سہی کہ وفادار ہم نہیں
رونا یہ ہے کہ وہ بھی پریشان ہیں قمرؔ
اپنی مصیبتوں سے پریشان ہم نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.