نہاں کیے سے کہیں راز غم نہاں ہوتا
نہاں کیے سے کہیں راز غم نہاں ہوتا
زباں دہن میں نہ ہوتی تو میں زباں ہوتا
محال تھا کہ میں آزاد دو جہاں ہوتا
بہ قید جسم نہ ہوتا بقید جاں ہوتا
تمام اٹھ گئے پردے تو اس سے کیا حاصل
مزا تو جب تھا کہ میں بھی نہ درمیاں ہوتا
وہ حال دل لب خاموش سے بھی سنتے ہیں
یہ جانتا تو نہ شرمندۂ فغاں ہوتا
یہ سب نمود و نمائش ہے تیرے چھپنے سے
جو تو نہ پردہ میں ہوتا تو میں کہاں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.