جدید ادب میں اکثر یہ بحث چھیڑی جاتی ہے کہ محاوروں کے استعمال کی کیا ضرورت ہے؟ اگر سیدھے سادے الفاظ میں بات کہی جا سکتی ہے تو محاوروں کے تکلف میں کیوں پڑا جائے؟ محمد حسن عسکری اس سطحی سوچ کا پردہ چاک کرتے ہوئے محاورے کی اصل روح اور اس کی سماجی و نفسیاتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک محاورہ محض چند الفاظ کا خوبصورت مجموعہ نہیں، بلکہ یہ اجتماعی تجربے کا وہ ٹکڑا ہے جس میں پورے سماج کی شخصیت، اس کے معتقدات اور کائنات کے بارے میں اس کا رویہ پوشیدہ ہوتا ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے رتن ناتھ سرشار کے ایک جملے 'چراغ میں بتی پڑی اور اس نیک بخت نے چادر تانی' کی مثال لی جا سکتی ہے۔ بظاہر اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ شام ہوتے ہی لڑکی سو گئی۔ لیکن سرشار نے 'شام ہونا' کہنے کے بجائے 'چراغ میں بتی پڑنا' کیوں کہا؟ عسکری صاحب واضح کرتے ہیں کہ شام ہونا ایک فطری عمل ہے، جبکہ چراغ میں بتی پڑنا انسانوں کی دنیا کا وہ عمل ہے جو اس فطری عمل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
ماضی کے اس محاورے میں ایک پوری تہذیب اور اجتماعی زندگی کا منظر قید ہے۔ سرسوں کے تیل کے چراغ جلنے کا وقت، روئی کی تلاش، بچوں کی چہل پہل، اور رات کے کھانے کی تیاری کا ہنگامہ، یہ سب 'چراغ میں بتی پڑنے' کے تصور میں شامل ہیں۔ اس محاورے کے ذریعے شام کے اندھیرے پر انسانی زندگی کی ہماہمی غالب آ جاتی ہے۔ اسی طرح 'چادر تاننا' محض سونا نہیں، بلکہ زندگی کی سرگرمیوں سے تھک کر ایک شعوری فعل کے ذریعے خود کو دوسروں سے الگ کر لینے کی علامت ہے۔
محاورے کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ انفرادی تجربے کو اجتماعی تجربے کے پس منظر میں پیش کرتا ہے۔ یہ فرد کو معاشرے میں گھلا دیتا ہے، تخصیص میں تعمیم پیدا کرتا ہے اور جزو کو کل میں ڈبو دیتا ہے۔ محاورہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فرد کا تجربہ سماج کے تجربے سے کٹا ہوا نہیں ہے۔
تاہم، محاورہ صرف اسی وقت وجود میں آتا ہے اور استعمال ہوتا ہے جب فرد اپنے معاشرے سے تعلق برقرار رکھنا چاہے۔ یہ ایک مربوط اور منضبط معاشرے کی پیداوار ہے۔ جب فرد اور معاشرے کا یہ سچا ربط ٹوٹ جاتا ہے، تو محاورے محض لغت کے مردہ الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔ محاورے دراصل اجتماعی زندگی کی شاعری اور اس کے اساطیر (Myths) ہیں، جن کے بغیر زبان اپنی ثقافتی روح سے محروم ہو جاتی ہے۔
