اردو شاعری کے عہدِ زریں پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں غالب، ذوق اور مومن جیسے عظیم نام ایک ہی دور میں سانس لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب سلطنتِ مغلیہ کا آخری چراغ ٹمٹما رہا تھا اور برصغیر میں ایک بہت بڑا سیاسی اور سماجی انقلاب دستک دے رہا تھا۔ اس انحطاط پذیر دور میں شعراء کا عام رویہ یہ تھا کہ وہ دربارِ شاہی سے وابستہ ہو کر یا امراء کی قصیدہ خوانی کر کے اپنا معاشی اور سماجی مقام مستحکم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ذوق بہادر شاہ ظفر کے استاد ہونے کے ناطے دربار سے وابستہ تھے اور غالب بھی اسی دربار تک رسائی اور استادِ شاہ بننے کی حسرت دل میں لیے ہوئے تھے۔
نیاز فتح پوری کے مقالے کے مطابق، اس دور کے شعراء میں سیاسی اور قومی زوال کا وہ درد نظر نہیں آتا جو ہونا چاہیے تھا۔ سوائے بہادر شاہ ظفر کے، جو خود اس زوال کا براہِ راست شکار تھے، دیگر شعراء اس دردناک منظر سے بڑی حد تک بے نیاز تھے۔ ذوق ایک مفلس و بے دست و پا بادشاہ کو 'شہنشاہ عالم' کہہ کر پکارتے تھے، اور غالب کے دل میں ذوق کی جگہ نہ ملنے کی خلش تاحیات باقی رہی۔ غالب کی خودداری بھی اس وقت جواب دے گئی جب انہیں دربار سے وابستہ ہونے اور اپنی تنخواہ کے لیے تقاضے کرنے پڑے۔
ان سب کے برعکس، مومن خاں مومن کی شخصیت ایک انتہائی غیور اور خوددار انسان کی تھی۔ انہوں نے کبھی کسی بادشاہ کی مدح میں قصیدہ نہیں لکھا اور نہ ہی کسی امیر کی خوشامد کی۔ ان کی فطرت اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ ایک زوال پذیر اور بے اختیار بادشاہ کی جھوٹی تعریفیں کر کے اپنے فن کو داغدار کریں۔ وہ بخوبی سمجھتے تھے کہ ایسے وقت میں بادشاہ کی تعریف کرنا درحقیقت زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
مومن کی یہ دربار سے بے نیازی محض ایک شاعرانہ ادا نہیں تھی، بلکہ ان کے اندر ایک گہرا سیاسی اور قومی شعور بھی بیدار تھا۔ ان کے کلام کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد کی سیاسیات سے قطعی ناواقف نہیں تھے۔ ان کے اندر قومی خودداری کا جذبہ اس قدر موجزن تھا کہ انہوں نے 'جہاد' کے موضوع پر ایک مکمل مثنوی تحریر کی۔ اس کے علاوہ ان کے دیوان میں ایسے اشعار بھی ملتے ہیں جن کا روئے سخن براہِ راست فرنگیوں کی طرف ہے۔
یہی وہ بنیادی خصوصیت ہے جو مومن کو ان کے ہم عصر شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کے کلام میں کہیں بھی خوئے گدایانہ یا تملق کا اظہار نہیں ملتا۔ انہوں نے شاہانہ دربار تک رسائی کو کبھی اپنی منزل نہیں سمجھا اور اپنی انا اور فن کی حرمت کو ہر حال میں مقدم رکھا۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں ہر شخص بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کر رہا تھا، مومن کا یہ استغناء انہیں اردو ادب کی تاریخ میں ایک منفرد اور قابلِ احترام مقام عطا کرتا ہے۔
