زبانوں کے ارتقاء میں یہ بات نہایت حیرت انگیز ہوتی ہے کہ ایک ہی مادہ یا جڑ سے نکلنے والے الفاظ وقت کے ساتھ کتنے مختلف، اور بسا اوقات متضاد، مفاہیم اختیار کر لیتے ہیں۔ سید سلیمان ندوی نے لفظ 'جہاز' کی جو لسانی کھوج لگائی ہے، وہ اس کی ایک بہترین اور روشن مثال ہے۔
بظاہر 'جہاز' ایک عربی لفظ معلوم ہوتا ہے، لیکن جس مخصوص معنی (بحری جہاز) میں ہم اسے آج استعمال کرتے ہیں، وہ خالص ہندوستانی یا ہندوستانی فارسی کی پیداوار ہے۔ عربی زبان میں اس لفظ کے بنیادی معنی 'سامان کرنے' یا 'تیاری کرنے' کے ہیں۔ تیسری صدی ہجری میں جب کوئی تاجر کشتی میں سامان لاد کر بھیجتا، تو اسے 'تجہیز' کہا جاتا تھا۔ بزرگ بن شہریار کے سفرنامے میں ذکر ملتا ہے کہ اس نے اپنا ایک جہاز (یعنی سامان) جاوہ بھیجا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لفظ صرف سمندری سفر تک محدود نہیں رہا۔ چوتھی صدی ہجری میں وسط ایشیا میں خشکی کے راستے جانے والے تجارتی سامان اور قافلوں کے لیے بھی 'جہاز' کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ 'حدود العالم' نامی کتاب میں ہندوستان سے آنے والے سامانِ تجارت کو 'جہازِ ہندوستان' لکھا گیا ہے۔ اکبر کے زمانے تک آتے آتے، ہندوستان میں یہ لفظ سامانِ تجارت کے بجائے اس سواری (کشتی یا بحری جہاز) کے لیے مخصوص ہو گیا جو وہ سامان لے کر جاتی تھی۔
اسی بنیادی لفظ (سامان کرنے) سے ہماری زبان میں خوشی اور غم کے دو بالکل مختلف الفاظ پیدا ہوئے۔ پہلا لفظ 'جہیز' ہے۔ شادی کے موقع پر باپ کی طرف سے بیٹی کو جو سامان دیا جاتا ہے، اسے جہیز کہتے ہیں۔ یہ لفظ بھی خالص ہندوستانی ہے۔ عربی اور فارسی کے لسانی قاعدے (امالہ) کے تحت 'جہاز' کا الف، یائے مجہول میں بدل گیا اور یہ 'جہیز' بن گیا۔ اب اس لفظ پر کسی عرب یا ایرانی کا کوئی دعویٰ نہیں رہا۔
دوسری طرف، اسی لفظ سے غم کا ایک استعارہ 'تجہیز' وجود میں آیا۔ عربی میں مردے کے کفن دفن کا سامان کرنے کو بھی جہاز کہتے ہیں، جس سے مصدر 'تجہیز' بنا۔ آج ہماری زبان میں 'تجہیز و تکفین' کا مرکب لفظ کسی کے آخری سفر کی تیاری کے لیے بولا جاتا ہے۔ ایک ہی لفظ نے سفر، خوشی اور موت، تینوں کے لیے سامان مہیا کر دیا۔
