Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ شاید آزمانا چاہتا ہے

قیصر عمران سیالوی

وہ شاید آزمانا چاہتا ہے

قیصر عمران سیالوی

MORE BYقیصر عمران سیالوی

    وہ شاید آزمانا چاہتا ہے

    مجھے پھر سے رلانا چاہتا ہے

    نئے احباب سے اکتا گیا ہے

    تعلق پھر پرانا چاہتا ہے

    وہ مجھ سے چاہتا ہے دور ہونا

    مگر منظر سہانا چاہتا ہے

    کوئی تو بات ایسی ہے جو دلبر

    اشاروں میں بتانا چاہتا ہے

    مری خوشیوں سے دل برداشتہ ہے

    مری کٹیا جلانا چاہتا ہے

    اسے احساس شاید ہو گیا ہے

    مری بانہوں میں آنا چاہتا ہے

    محبت تو رہی ہے دونوں جانب

    نجانے کیا جتانا چاہتا ہے

    کوئی نظریں ملانے پر تلا ہے

    کوئی نظریں چرانا چاہتا ہے

    میں قدموں پر کھڑا ہوں آج قیصرؔ

    تو وہ پھر سے گرانا چاہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے