وہ شاید آزمانا چاہتا ہے
وہ شاید آزمانا چاہتا ہے
مجھے پھر سے رلانا چاہتا ہے
نئے احباب سے اکتا گیا ہے
تعلق پھر پرانا چاہتا ہے
وہ مجھ سے چاہتا ہے دور ہونا
مگر منظر سہانا چاہتا ہے
کوئی تو بات ایسی ہے جو دلبر
اشاروں میں بتانا چاہتا ہے
مری خوشیوں سے دل برداشتہ ہے
مری کٹیا جلانا چاہتا ہے
اسے احساس شاید ہو گیا ہے
مری بانہوں میں آنا چاہتا ہے
محبت تو رہی ہے دونوں جانب
نجانے کیا جتانا چاہتا ہے
کوئی نظریں ملانے پر تلا ہے
کوئی نظریں چرانا چاہتا ہے
میں قدموں پر کھڑا ہوں آج قیصرؔ
تو وہ پھر سے گرانا چاہتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.