خدا کے سامنے کہہ دیں بتوں کو پیار کیا
خدا کے سامنے کہہ دیں بتوں کو پیار کیا
یہ جرم ہم نے کیا اور لاکھ بار کیا
وہ خوش رہے جو ہمیں رنج دے محبت میں
وہ برقرار رہے جس نے بے قرار کیا
تمہارا جھوٹ بھی اچھا ہے تم بھی اچھے ہو
برے تو ہم ہیں کہ جھوٹے کا اعتبار کیا
یہ کمسنی کا اثر تھا کہ آج قاتل نے
جھجک جھجک کے بڑی مشکلوں سے وار کیا
جنوں میں اور یہ وحشی مزاج کیا کرتے
یہی کیا کہ گریباں کو تار تار کیا
یہ کیا خطا ہے کہ میں دل دہی کو کہتا ہوں
بڑا گناہ تو وہ تھا کہ دل نثار کیا
بھلے کو اب یہ سمجھ آ گئی تمہیں کہ قمرؔ
برے کو دوست بنایا برے کو پیار کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.