محبت ہوگی محتاج بیاں جب ہم نہیں ہوں گے
محبت ہوگی محتاج بیاں جب ہم نہیں ہوں گے
نہ سمجھے گا کوئی دل کی زباں جب ہم نہیں ہوں گے
ہماری انگلیاں ہیں نبض احساسات امکاں پر
یقیں پر وہم کا ہوگا گماں جب ہم نہیں ہوں گے
ابھی تو سب نے گرد کارواں ہی ہم کو سمجھا ہے
ہمیں ڈھونڈیں گے اہل کارواں جب ہم نہیں ہوں گے
نشاں منزل کا کیا منزل بھی گم ہوگی دھندلکوں میں
چراغ رہگزر دیں گے دھواں جب ہم نہیں ہوں گے
وطن کے چپے چپے پر کچھ ایسی یادگاریں ہیں
ہماری داستاں ہوگی یہاں جب ہم نہیں ہوں گے
محبت کے حسیں خوابوں کی تعبیریں ہمیں تک ہیں
بہت سے خواب ہوں گے رائیگاں جب ہم نہیں ہوں گے
ہمیں برباد کرنے سے یہ پہلے سوچنا ہوگا
تمہی پر تو اٹھیں گی انگلیاں جب ہم نہیں ہوں گے
ہماری خامشی کو اپنی حد سے تو گزرنے دو
بنے گی بے زبانی بھی زباں جب ہم نہیں ہوں گے
چھڑک کر خون دل ہم نے گلستاں کو نکھارا ہے
ہمیں روئے گا برسوں باغباں جب ہم نہیں ہوں گے
ہمارے بعد اکثر دعوت فکر و نظر دیں گی
ہمارے ذہن کی پرچھائیاں جب ہم نہیں ہوں گے
ہمیں پر ختم ہے اے جوشؔ شدت برق و باراں کی
نہ ہوگا انقلاب آسماں جب ہم نہیں ہوں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.