میں وہ ہوں میں نے تمہارے پاؤں پر سر رکھ دیا
میں وہ ہوں میں نے تمہارے پاؤں پر سر رکھ دیا
تم وہ ہو پھر بھی گلے پر میرے خنجر رکھ دیا
یہ ستم تھے میری قسمت میں تو قسام ازل
کیوں نہ اس دل کی جگہ پہلو میں پتھر رکھ دیا
کہہ رہے ہیں مجھ سے وہ دیکھی تمہاری منصفی
دل تو زلفوں کو دیا الزام مجھ پر رکھ دیا
مجھ سے کہتے ہیں قسم تو خیر کھا لیتے مگر
ہاتھ تم نے کیا سمجھ کر میرے سر پر رکھ دیا
اب وہ گھر لے جائیں اس کو یا سر محفل پئیں
شیخ جی کے نام کا ساغر تو بھر کر رکھ دیا
میری تربت پر انہیں پھر کون لائے گا قمرؔ
قبر بلبل پر کسی نے کب گل تر رکھ دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.