کبھی دنیا کبھی تیری جفا نے مار ڈالا ہے
کبھی دنیا کبھی تیری جفا نے مار ڈالا ہے
ہم ایسے لوگ ہیں جن کو وفا نے مار ڈالا ہے
میں ایسا گل تھی جو شاداں و فرحاں تھی گلستاں میں
مجھے اس نے محبت کے بہانے مار ڈالا ہے
میں تازہ سانس لینے آئی تھی اس شہر یاراں میں
مجھے اس شہر کی آب و ہوا نے مار ڈالا ہے
مری آنکھیں ہوئیں پرنم زباں خاموش دل میں غم
مرے ہمدم مجھے تیری عطا نے مار ڈالا ہے
میں کب منکر ہوں رشتوں کے تقدس کی مگر زوبیؔ
کئی مضبوط رشتوں کو انا نے مار ڈالا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.