گھر ترے پیکاں کے رہنے کا نیا پیدا کروں
گھر ترے پیکاں کے رہنے کا نیا پیدا کروں
دل ہے سینہ میں تو دل میں آبلہ پیدا کروں
صاف کہئے ضبط یا دل میں مزا پیدا کروں
کیوں جناب عشق ان دونوں میں کیا پیدا کروں
جان دینا یوں تو بدنامی ہے ان کے عشق میں
کوئی مر جانے کا حیلہ اے قضا پیدا کروں
ظلم وہ ایجاد کرتے کرتے آخر تھک گئے
خود ہی کہتے ہیں کہ اب دل میں وفا پیدا کروں
گر اجازت دیجئے تو لے کے بوسے بار بار
آپ کے سیب زنخداں میں مزا پیدا کروں
چشم جاناں میں نپاؤں سرمہ کا دنبالہ میں
نرگس بیمار کی خاطر عصا پیدا کروں
اک محبت آپ کی ہے اک عداوت غیر کی
آپ ہی فرمائیے اس دل میں کیا پیدا کروں
ہے یہ دل میں ان کے جو کوئی نہ عاشق سہہ سکے
مشورہ کر کے فلک سے وہ جفا پیدا کروں
چاہئے ہیں اس شہ خوبی کو بالش کے لئے
کس طرح اتنے پر و بال ہما پیدا کروں
کچھ دنوں سے ہائے ان کے دل میں آئی ہے یہ بات
سب پکار اٹھیں قضا کو وہ ادا پیدا کروں
یہ اشارہ ہے سمند خوش خرام یار کا
بد چلن ہوں میں جو رفتار صبا پیدا کروں
عشق سے میں نے جو پوچھا کب کروں فریاد ظلم
بول اٹھا میں ان کے دل میں جب وفا پیدا کروں
ایک ابرو ان کا پیدا کر کے خالق نے کہا
اب مناسب ہے کہ تجھ سا دوسرا پیدا کروں
ہر قدم پر ہے یہ ایمائے عصا مجھ پیر سے
تم کرو ناپید میں جو نقش پا پیدا کروں
یہ زمین کوچۂ قاتل سے آتی ہے صدا
جذب ہو خون شہیداں تو حنا پیدا کروں
کہتی ہے ان کی جوانی شوخیاں آنکھوں میں ہیں
ڈال کر میں نیند کا پردا حیا پیدا کروں
ان کے در پر اے فصاحتؔ ہے یہ مجھ سائل کو فکر
درد ہو جس میں بھرا ایسی صدا پیدا کروں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.