Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اپنی خبر نہیں ہے ترے انتظار میں

واصف علی واصف

اپنی خبر نہیں ہے ترے انتظار میں

واصف علی واصف

MORE BYواصف علی واصف

    اپنی خبر نہیں ہے ترے انتظار میں

    بس میں بہار ہے نہ خزاں اختیار میں

    جو بدگماں تھے وہ ابھی بھی بد گمان ہیں

    جن کو تھا اعتبار وہ ہیں اعتبار میں

    گلشن میں اپنا کون تھا ساتھی نہ آشیاں

    رکھ لی قفس نے آبرو فصل بہار میں

    راہ طلب میں ہم سے کوئی بھول ہو گئی

    اغیار آ رہے ہیں نظر کوئے یار میں

    مایوسیوں نے ساتھ دیا لا مکان تک

    امید سو گئی تھی تری رہ گذار میں

    بیباکی اور چیز ہے گستاخی اور شئے

    لازم ہے احتیاط سو ہے مےگسار میں

    واصفؔ جہان عشق میں سوداگری ہے جرم

    کب جیت کو خبر ہے جو ہے لطف ہار میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے