اپنی خبر نہیں ہے ترے انتظار میں
اپنی خبر نہیں ہے ترے انتظار میں
بس میں بہار ہے نہ خزاں اختیار میں
جو بدگماں تھے وہ ابھی بھی بد گمان ہیں
جن کو تھا اعتبار وہ ہیں اعتبار میں
گلشن میں اپنا کون تھا ساتھی نہ آشیاں
رکھ لی قفس نے آبرو فصل بہار میں
راہ طلب میں ہم سے کوئی بھول ہو گئی
اغیار آ رہے ہیں نظر کوئے یار میں
مایوسیوں نے ساتھ دیا لا مکان تک
امید سو گئی تھی تری رہ گذار میں
بیباکی اور چیز ہے گستاخی اور شئے
لازم ہے احتیاط سو ہے مےگسار میں
واصفؔ جہان عشق میں سوداگری ہے جرم
کب جیت کو خبر ہے جو ہے لطف ہار میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.