Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دن کے ضامن تھے مگر رات میں ڈھلتے ہوئے لوگ

زوبیہ بٹ زوبی

دن کے ضامن تھے مگر رات میں ڈھلتے ہوئے لوگ

زوبیہ بٹ زوبی

MORE BYزوبیہ بٹ زوبی

    دن کے ضامن تھے مگر رات میں ڈھلتے ہوئے لوگ

    میں نے دیکھے ہیں یہاں رنگ بدلتے ہوئے لوگ

    کیا مرے ہاتھ کے گجرے کی لگائیں قیمت

    گل فروشوں میں کھڑے پھول مسلتے ہوئے لوگ

    دوش کیا دیں گے ہوا دیتے ہوئے پتوں کو

    اپنوں ہاتھوں سے لگی آگ میں جلتے ہوئے لوگ

    ان کی آنکھوں میں لکھا ہوتا ہے ہائے غربت

    تم نے دیکھے ہیں کبھی بھوک میں مرتے ہوئے لوگ

    آتش حسن کی حدت کا انہیں کیا معلوم

    راکھ ہو جائیں گے یہ آگ اگلتے ہوئے لوگ

    آستیں سانپ کی نسبت سے غلط ہے منسوب

    سانپ ہوتے ہیں یہاں ہاتھ میں پلتے ہوئے لوگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے