دن کے ضامن تھے مگر رات میں ڈھلتے ہوئے لوگ
دن کے ضامن تھے مگر رات میں ڈھلتے ہوئے لوگ
میں نے دیکھے ہیں یہاں رنگ بدلتے ہوئے لوگ
کیا مرے ہاتھ کے گجرے کی لگائیں قیمت
گل فروشوں میں کھڑے پھول مسلتے ہوئے لوگ
دوش کیا دیں گے ہوا دیتے ہوئے پتوں کو
اپنوں ہاتھوں سے لگی آگ میں جلتے ہوئے لوگ
ان کی آنکھوں میں لکھا ہوتا ہے ہائے غربت
تم نے دیکھے ہیں کبھی بھوک میں مرتے ہوئے لوگ
آتش حسن کی حدت کا انہیں کیا معلوم
راکھ ہو جائیں گے یہ آگ اگلتے ہوئے لوگ
آستیں سانپ کی نسبت سے غلط ہے منسوب
سانپ ہوتے ہیں یہاں ہاتھ میں پلتے ہوئے لوگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.