اپنے کسی کمال کا اعلان کیا کرے
اپنے کسی کمال کا اعلان کیا کرے
خود پھول سامنے ہو تو گلدان کیا کرے
تیرا یہ قرب رزق کی خواہش سے کم نہیں
جب بھوک لگ رہی ہو تو انسان کیا کرے
دامن میں کچھ نہ کچھ تو نمی ہونی چاہئے
ویران کھیتیوں پہ وہ باران کیا کرے
ہو عالم وصال میں مستانہ آدمی
لیکن کسی کے ہجر کے دوران کیا کرے
تیرے بغیر سلطنت دل کا حال کیا
سلطان ہار جائے تو دربان کیا کرے
جس پر تمہارے حسن کی تاثیر تک نہ ہو
اس شخص کا بھلا کوئی درمان کیا کرے
یکجا ہوئی نہ اس سے مری خاک بے کنار
جامیؔ وہ اپنی فتح کا اعلان کیا کرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.