سجدے تڑپ رہے ہیں ترے آستاں سے دور
سجدے تڑپ رہے ہیں ترے آستاں سے دور
یہ جان داستاں بھی ہیں کیوں داستاں سے دور
چل اے دل حزیں کہیں غم کے جہاں سے دور
یعنی اب اس زمین سے اس آسماں سے دور
کی ہیں بگڑ کے وقت نے وہ برق پاشیاں
رہنے لگا خیال بھی اب آشیاں سے دور
مانند سبزہ ہو گئے بیگانہ اہل باغ
اب گلستاں میں رہ کے بھی ہوں گلستاں سے دور
پروا نہیں جو میرا نشیمن جلا دے برق
اک اور آشیاں بھی ہے اس آشیاں سے دور
اے روح اس عذاب مسلسل سے دے نجات
چل اب چلیں حیات کے خواب گراں سے دور
جو بڑھ گئے وہ چاند ستاروں کے ہیں قریب
ہم نقش پا تھے چھوٹ گئے کارواں سے دور
تاروں کے قافلے ہیں کہ سجدے منیرؔ کے
روشن ہیں جو چراغ ترے آستاں سے دور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.