ہماری خیر خبر بھی خدارا لی جائے
ہماری خیر خبر بھی خدارا لی جائے
کسی طرح سے ازل کی یہ بے گھری جائے
ہماری برسوں کی آہیں بھی اس میں شامل ہوں
کسی بھی دشت کی بنیاد جب رکھی جائے
چہار سمت میں پھیلے ہوئے رواں دریا
اب آدمی تجھے وحشت سمیت پی جائے
میں تیرے وصل کے لمحوں کی گٹھڑیاں کھولوں
یہ کائنات مرے ساتھ دیکھتی جائے
میں جانتا ہوں کہ دل سے نکل کے آتی ہے
وہ ایک گونج جو ہر سمت پھیلتی جائے
تمہارے واسطے تا عمر روشنی بانٹے
کسی چراغ سے گفت و شنید کی جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.