Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر قدم پر کسی کہرام نے آنکھیں کھولیں

یاور علی

ہر قدم پر کسی کہرام نے آنکھیں کھولیں

یاور علی

MORE BYیاور علی

    ہر قدم پر کسی کہرام نے آنکھیں کھولیں

    کس قدر گردش ایام نے آنکھیں کھولیں

    درمیاں کوئی تو پردہ تھا حقیقت نہ دکھی

    ہر گھڑی حسرت ناکام نے آنکھیں کھولیں

    کتنی دلکش تھی ترے عشق میں گمراہی بھی

    ہائے کیوں اس دل ناکام نے آنکھیں کھولیں

    ہم ملے بعد جوانی تو لگا یوں جیسے

    دن کے ڈھلتے ہی حسیں شام نے آنکھیں کھولیں

    ڈوب جانے کو کھڑا تھا میں لب دریا پہ

    اور اک خواہش گمنام نے آنکھیں کھولیں

    تم کسے پیاس کی شدت سے ڈرانے آئے

    دشت کی ریت پہ اسلام نے آنکھیں کھولیں

    التجا کرنے لگے بھیشم اتر کر رتھ سے

    رن میں جب کرودھ سے گھنشیام نے آنکھیں کھولیں

    کھل گئیں بیڑیاں وسودیو کی خود ہی یاورؔ

    کنس کی قید میں جب شیام نے آنکھیں کھولیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے