ہر قدم پر کسی کہرام نے آنکھیں کھولیں
ہر قدم پر کسی کہرام نے آنکھیں کھولیں
کس قدر گردش ایام نے آنکھیں کھولیں
درمیاں کوئی تو پردہ تھا حقیقت نہ دکھی
ہر گھڑی حسرت ناکام نے آنکھیں کھولیں
کتنی دلکش تھی ترے عشق میں گمراہی بھی
ہائے کیوں اس دل ناکام نے آنکھیں کھولیں
ہم ملے بعد جوانی تو لگا یوں جیسے
دن کے ڈھلتے ہی حسیں شام نے آنکھیں کھولیں
ڈوب جانے کو کھڑا تھا میں لب دریا پہ
اور اک خواہش گمنام نے آنکھیں کھولیں
تم کسے پیاس کی شدت سے ڈرانے آئے
دشت کی ریت پہ اسلام نے آنکھیں کھولیں
التجا کرنے لگے بھیشم اتر کر رتھ سے
رن میں جب کرودھ سے گھنشیام نے آنکھیں کھولیں
کھل گئیں بیڑیاں وسودیو کی خود ہی یاورؔ
کنس کی قید میں جب شیام نے آنکھیں کھولیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.