آشیاں باندھے ہے کس امید پر اے عندلیب (ردیف .. ر)
آشیاں باندھے ہے کس امید پر اے عندلیب
آتش گل سے کوئی دن میں جلاتی ہے بہار
کس کو گلگشت چمن کا ہے دماغ اے باغباں
کھینچ کر میرا گریباں یاں لے آتی ہے بہار
شور سن کر ہم نوایوں کا ابلتا ہے یہ دل
رخصت یک نالہ اے صیاد جاتی ہے بہار
خوش رکھو اے عندلیبو اپنے گلشن میں ہمیں
خانۂ زنجیر تھا خالی بلاتی ہے بہار
اب خدا حافظ ہے سوداؔ کا مجھے آتا ہے رحم
ایک تو تھا ہی دوانہ تس پہ آتی ہے بہار
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.