Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نگاہ یار کے منتر نہیں سمجھتا تھا

محمد مستحسن جامی

نگاہ یار کے منتر نہیں سمجھتا تھا

محمد مستحسن جامی

MORE BYمحمد مستحسن جامی

    نگاہ یار کے منتر نہیں سمجھتا تھا

    میں اس کی بات کو فر فر نہیں سمجھتا تھا

    تمام وقت گزرتا تھا ساحلوں سے پرے

    ہمارے بھید سمندر نہیں سمجھتا تھا

    ترے وجود سے دنیا سنور چکی تھی مری

    تجھے میں صرف مقدر نہیں سمجھتا تھا

    بہت یقیں تھا مجھے زندگی کے بارے میں

    مگر میں آپ سے بہتر نہیں سمجھتا تھا

    مری اداس ہواؤں سے آشنائی تھی

    وہ پچھلی رات کا منظر نہیں سمجھتا تھا

    کیا خود اس کے رویے نے منکشف مجھ پر

    میں اولاً اسے پتھر نہیں سمجھتا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے