نگاہ یار کے منتر نہیں سمجھتا تھا
نگاہ یار کے منتر نہیں سمجھتا تھا
میں اس کی بات کو فر فر نہیں سمجھتا تھا
تمام وقت گزرتا تھا ساحلوں سے پرے
ہمارے بھید سمندر نہیں سمجھتا تھا
ترے وجود سے دنیا سنور چکی تھی مری
تجھے میں صرف مقدر نہیں سمجھتا تھا
بہت یقیں تھا مجھے زندگی کے بارے میں
مگر میں آپ سے بہتر نہیں سمجھتا تھا
مری اداس ہواؤں سے آشنائی تھی
وہ پچھلی رات کا منظر نہیں سمجھتا تھا
کیا خود اس کے رویے نے منکشف مجھ پر
میں اولاً اسے پتھر نہیں سمجھتا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.