گھٹ گیا دم کھولیے کھڑکی ہوا لے لیجئے
گھٹ گیا دم کھولیے کھڑکی ہوا لے لیجئے
منتظر کچھ لوگ ہیں ان کی دعا لے لیجئے
کہہ رہی ہے اس کے ہونٹوں پر تبسم کی لکیر
خوں ہوا ہے دل تو اس کا خوں بہا لے لیجئے
سب کو دل کی بات سمجھانے سے آخر فائدہ
اپنے سر پر ساری دنیا کا گلہ لے لیجئے
دیکھنے اس کو چلے جس کا نشاں کوئی نہیں
سب سے پہلے آپ اپنا تو پتا لے لیجئے
دو قدم چلنا اگر دوبھر ہوا ہے آپ کو
آسرا گرتی ہوئی دیوار کا لے لیجئے
جاگتی آنکھیں سلگتا دل کہ تنہائی کے رنگ
ہے سفر در پیش اپنے ساتھ کیا لے لیجئے
دائمی کر دیجئے جاتی ہوئی فصل بہار
آنکھ کی پتلی میں تصویر صبا لے لیجئے
راستہ تاریک ہے در پیش ہے شب کا سفر
اپنے سر پر دن کے سورج کی ردا لے لیجئے
بس یہی ہوگا کہ دیوانہ کہیں گے اہل بزم
آپ چپ کیوں ہیں مری طرز نوا لے لیجئے
اس طرح شہزاد کیسے کٹ سکے گی زندگی
ایک غم اپنی بھی طاقت سے سوا لے لیجئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.