Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ کوئی رسم ہے کچھ ایسے وعدوں کا ٹھکانا ہے

قمر بدایونی

یہ کوئی رسم ہے کچھ ایسے وعدوں کا ٹھکانا ہے

قمر بدایونی

MORE BYقمر بدایونی

    یہ کوئی رسم ہے کچھ ایسے وعدوں کا ٹھکانا ہے

    فقط باتیں ہی باتیں ہیں نہ آنا ہے نہ جانا ہے

    یہ کیا کہتے ہو تم سے رسم کرنا زک اٹھانا ہے

    نصیب دشمناں تم نے مجھے کیا غیر جانا ہے

    ہزاروں منتوں پر آج کہتے ہیں کہ آئیں گے

    ذرا سی بات تھی جس کو بڑی مشکل سے مانا ہے

    ابھی یہ کس نے دیکھا ہے ترس کھائیں کہ ناخوش ہوں

    ابھی تو ان سے مل کر ان کو حال دل سنانا ہے

    مجھے یہ فکر وہ بیٹھیں تو حال دل کہوں ان سے

    انہیں یہ ضد پھر آؤں گا مجھے اس وقت جانا ہے

    یہ تسکیں دے کے مجھ کو وہ گئے دشمن کی محفل میں

    کہ اس محفل سے اٹھ کر پھر تمہارے گھر بھی آنا ہے

    یہ سچ ہے ان سے بڑھ کر دل نے کی ہے دشمنی مجھ سے

    قمرؔ میں جھوٹ کیوں بولوں خدا کو منہ دکھانا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے