یہ کوئی رسم ہے کچھ ایسے وعدوں کا ٹھکانا ہے
یہ کوئی رسم ہے کچھ ایسے وعدوں کا ٹھکانا ہے
فقط باتیں ہی باتیں ہیں نہ آنا ہے نہ جانا ہے
یہ کیا کہتے ہو تم سے رسم کرنا زک اٹھانا ہے
نصیب دشمناں تم نے مجھے کیا غیر جانا ہے
ہزاروں منتوں پر آج کہتے ہیں کہ آئیں گے
ذرا سی بات تھی جس کو بڑی مشکل سے مانا ہے
ابھی یہ کس نے دیکھا ہے ترس کھائیں کہ ناخوش ہوں
ابھی تو ان سے مل کر ان کو حال دل سنانا ہے
مجھے یہ فکر وہ بیٹھیں تو حال دل کہوں ان سے
انہیں یہ ضد پھر آؤں گا مجھے اس وقت جانا ہے
یہ تسکیں دے کے مجھ کو وہ گئے دشمن کی محفل میں
کہ اس محفل سے اٹھ کر پھر تمہارے گھر بھی آنا ہے
یہ سچ ہے ان سے بڑھ کر دل نے کی ہے دشمنی مجھ سے
قمرؔ میں جھوٹ کیوں بولوں خدا کو منہ دکھانا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.