وہ کہتے ہیں اسے ثابت کرو میرے مقابل کا
وہ کہتے ہیں اسے ثابت کرو میرے مقابل کا
غضب میں پڑ گیا میں نام لے کر ماہ کامل کا
وہ مقتل تھا کہ تھی میرے گلے پر تیغ قاتل کی
یہ محشر ہے کہ میرے ہاتھ میں دامن ہے قاتل کا
ہمارا کیا گزر لیکن ہماری ترجمانی کو
تمہاری بزم میں کافی ہے رونا شمع محفل کا
بھلا تو اور میرے سامنے دشمن کے پہلو میں
تجھے دیکھوں کہ ظالم رنگ دیکھوں تیری محفل کا
تمہیں مالک سہی دل کے مگر میں تو یہ کہتا ہوں
کہ تم نے لے کے دل مجھ سے پھر آخر کیا کیا دل کا
فقط اس خوف سے کس کس نے ان کو دیکھیے دیکھا
وہ مجھ کو دیکھ کر منہ دیکھتے ہیں ساری محفل کا
وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس ہی اب اس کو رہنے دو
قمرؔ تم کیا کرو گے لے کے اس ٹوٹے ہوئے دل کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.