Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ کہتے ہیں اسے ثابت کرو میرے مقابل کا

قمر بدایونی

وہ کہتے ہیں اسے ثابت کرو میرے مقابل کا

قمر بدایونی

MORE BYقمر بدایونی

    وہ کہتے ہیں اسے ثابت کرو میرے مقابل کا

    غضب میں پڑ گیا میں نام لے کر ماہ کامل کا

    وہ مقتل تھا کہ تھی میرے گلے پر تیغ قاتل کی

    یہ محشر ہے کہ میرے ہاتھ میں دامن ہے قاتل کا

    ہمارا کیا گزر لیکن ہماری ترجمانی کو

    تمہاری بزم میں کافی ہے رونا شمع محفل کا

    بھلا تو اور میرے سامنے دشمن کے پہلو میں

    تجھے دیکھوں کہ ظالم رنگ دیکھوں تیری محفل کا

    تمہیں مالک سہی دل کے مگر میں تو یہ کہتا ہوں

    کہ تم نے لے کے دل مجھ سے پھر آخر کیا کیا دل کا

    فقط اس خوف سے کس کس نے ان کو دیکھیے دیکھا

    وہ مجھ کو دیکھ کر منہ دیکھتے ہیں ساری محفل کا

    وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس ہی اب اس کو رہنے دو

    قمرؔ تم کیا کرو گے لے کے اس ٹوٹے ہوئے دل کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے