محبت کر کے اب ہم سے کنارہ کس لئے جاناں
محبت کر کے اب ہم سے کنارہ کس لئے جاناں
یہ ہم سے دور جانے کا اشارہ کس لئے جاناں
محبت تم سے کی میں نے ہزاروں کی سنی باتیں
بتا تو ہی کہ میں ہوں بے سہارا کس لئے جاناں
نہ تو واقف وفاؤں کے تقاضوں سے تھا گر جاناں
مجھے چاہت کے شیشے میں اتارا کس لئے جاناں
ہمیشہ ساتھ رہنے کی جو تو نے کھائی تھیں قسمیں
وفا کا تو نے بدلہ ہے یہ دھارا کس لئے جاناں
اگر تم نے نہ آنا تھا پھر اتنا تو بتا دیتے
اسی اک آس پر گھر کو سنوارا کس لئے جاناں
یہی بس خوف تھا رسوا نہ ہو جائے کہیں جگ میں
یہ بازی کب کہاں کیسے میں ہارا کس لئے جاناں
محبت جب تھی دو طرفہ تو کیسا خوف اب قیصرؔ
اب اس دشت محبت میں خسارہ کس لئے جاناں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.