Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کسی کے لبوں کی دعا چاہتا ہے

سیف قریشی

کسی کے لبوں کی دعا چاہتا ہے

سیف قریشی

MORE BYسیف قریشی

    کسی کے لبوں کی دعا چاہتا ہے

    بھلا درد دل اور کیا چاہتا ہے

    ستم کا محبت صلہ چاہتا ہے

    کہ اب بے وفا بھی وفا چاہتا ہے

    دکھا حسن پھر سے اٹھا پھر سے پردا

    کوئی زندگی کی دوا چاہتا ہے

    اٹھا دے نگاہیں مری سمت اک بار

    سمندر میں دل ڈوبنا چاہتا ہے

    مری جان مجبور ہوں میں وگرنہ

    مجھے بھی کوئی دوسرا چاہتا ہے

    مرے حال دل سے خبردار ہے وہ

    زباں سے مگر تذکرہ چاہتا ہے

    جوانی نہیں اک بلا ہے کہ ہر دم

    جنوں اک نیا راستہ چاہتا ہے

    ہر اک آرزو پیش کر دی ہے میں نے

    وہی ہوگا اب جو خدا چاہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے