کسی کے لبوں کی دعا چاہتا ہے
کسی کے لبوں کی دعا چاہتا ہے
بھلا درد دل اور کیا چاہتا ہے
ستم کا محبت صلہ چاہتا ہے
کہ اب بے وفا بھی وفا چاہتا ہے
دکھا حسن پھر سے اٹھا پھر سے پردا
کوئی زندگی کی دوا چاہتا ہے
اٹھا دے نگاہیں مری سمت اک بار
سمندر میں دل ڈوبنا چاہتا ہے
مری جان مجبور ہوں میں وگرنہ
مجھے بھی کوئی دوسرا چاہتا ہے
مرے حال دل سے خبردار ہے وہ
زباں سے مگر تذکرہ چاہتا ہے
جوانی نہیں اک بلا ہے کہ ہر دم
جنوں اک نیا راستہ چاہتا ہے
ہر اک آرزو پیش کر دی ہے میں نے
وہی ہوگا اب جو خدا چاہتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.