خدایا یہ خدائی کھا گئی ہے
خدایا یہ خدائی کھا گئی ہے
مجھے اس کی جدائی کھا گئی ہے
کسی کو سادگی نے مار ڈالا
کسی کو خودنمائی کھا گئی ہے
کہیں پر جنبش ابرو نے لوٹا
کہیں پر دل رہائی کھا گئی ہے
نہ پوچھو حال اپنی بے بسی کا
تمہاری بے وفائی کھا گئی ہے
ہمیں تو داد لے ڈوبی یہاں پر
تمہیں تو جگ ہنسائی کھا گئی ہے
مرے گھر کے یہاں دیوار و در کو
تری شعلہ نوائی کھا گئی ہے
خداوندا ہدایت دے انہیں بھی
جنہیں ہرزہ سرائی کھا گئی ہے
رکھی تھی بات دل میں تو بھرم تھا
جوں ہی ہونٹوں پہ لائی کھا گئی ہے
ہوا ہے منجمد تو دیکھیے جی
تقدس جل کا کائی کھا گئی ہے
یہاں رشتوں کی قیصرؔ پاسداری
مجھے تو میرے بھائی کھا گئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.