Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خدایا یہ خدائی کھا گئی ہے

قیصر عمران سیالوی

خدایا یہ خدائی کھا گئی ہے

قیصر عمران سیالوی

MORE BYقیصر عمران سیالوی

    خدایا یہ خدائی کھا گئی ہے

    مجھے اس کی جدائی کھا گئی ہے

    کسی کو سادگی نے مار ڈالا

    کسی کو خودنمائی کھا گئی ہے

    کہیں پر جنبش ابرو نے لوٹا

    کہیں پر دل رہائی کھا گئی ہے

    نہ پوچھو حال اپنی بے بسی کا

    تمہاری بے وفائی کھا گئی ہے

    ہمیں تو داد لے ڈوبی یہاں پر

    تمہیں تو جگ ہنسائی کھا گئی ہے

    مرے گھر کے یہاں دیوار و در کو

    تری شعلہ نوائی کھا گئی ہے

    خداوندا ہدایت دے انہیں بھی

    جنہیں ہرزہ سرائی کھا گئی ہے

    رکھی تھی بات دل میں تو بھرم تھا

    جوں ہی ہونٹوں پہ لائی کھا گئی ہے

    ہوا ہے منجمد تو دیکھیے جی

    تقدس جل کا کائی کھا گئی ہے

    یہاں رشتوں کی قیصرؔ پاسداری

    مجھے تو میرے بھائی کھا گئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے