جواب دو تم کیا ہے کس نے تمہیں اشارہ سوال یہ ہے
جواب دو تم کیا ہے کس نے تمہیں اشارہ سوال یہ ہے
کہ آج تک میں نے کیا بگاڑا صنم تمہارا سوال یہ ہے
قدم قدم پہ گھری ہوئی تھی مصیبتوں میں یہ زیست تیری
خموش کیوں ہے نہیں ہے اس کو اگر سنوارا سوال یہ ہے
حضور تم کو بسایا دل میں چھپا کے رکھا زمانے بھر سے
مری وفاؤں سے کیوں مری جاں کیا کنارہ سوال یہ ہے
ہمی نے باہم یہ طے کیا تھا جئیں گے مل کے مریں گے مل کے
مجھے ہی حصے میں کیوں ملا ہے سبھی خسارہ سوال یہ ہے
بہت ہی اچھی گزر رہی تھی یہ زیست اپنی ہماری قیصرؔ
چلے ہو کیوں یار کر کے ہم کو یوں بے سہارا سوال یہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.