چمن میں ہم اکیلے اور حسد سارے زمانے میں
چمن میں ہم اکیلے اور حسد سارے زمانے میں
کبھی سکھ سے نہ بیٹھے دو گھڑی بھی آشیانے میں
جنہیں ہم چارہ ساز زخم دل اپنا سمجھتے ہیں
نمک پاشی وہی کرتے ہیں اکثر مسکرانے میں
چراغ اک جل اٹھا دنیا محبت کی چمک اٹھی
مرے داغ جگر سے ہو گئی رونق زمانے میں
کبھی بجلی چمکتی ہے کبھی کوندا لپکتا ہے
خدا معلوم کیا رکھا ہے میرے آشیانے میں
مرا سرمایۂ ہستی کتاب درس الفت ہے
زمانے کے بھرے ہیں درد و غم میرے فسانے میں
للک کیا چیز ہے پر جل چکے اب تن کی باری ہے
مگر مصروف ہے پروانہ ہمت آزمانے میں
منیرؔ ان حسن والوں کی سخاوت آزمانے کو
لیے کشکول دل پھرتا رہا سارے زمانے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.