مری سادگی پہ ہنس کے مری جرأتوں سے جل کے
مری سادگی پہ ہنس کے مری جرأتوں سے جل کے
کبھی ہاتھ بھی وہ آئے تو نکل گئے مچل کے
نہ پلٹ کے جا سکو گے مئے و جام سے نکل کے
بڑی دور آ چکے ہو مرے ساتھ ساتھ چل کے
مری بے بسی کو سمجھو مرے اشک غم نہ پونچھو
کوئی شکل رہ گئی ہے انہیں موتیوں میں ڈھل کے
نہ کسی نے ہاتھ پکڑا نہ ملا کہیں سہارا
رہ عاشقی میں اکثر میں گرا سنبھل سنبھل کے
وہ گھٹا گرج کے برسی کہ الٰہی توبہ توبہ
جو شراب گر گئی تھی مرے جام سے اچھل کے
بڑا غیر صوفیانہ ہے چلن منیرؔ تیرا
در مے کدہ سنبھالا در یار سے نکل کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.