دنیا کے اکثر بڑے مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ اس کائنات کی اصل ہستی یا ذاتِ واجب الوجود صرف ایک ہے۔ لیکن جب اس ذاتِ واحد کی علمی اور فلسفیانہ اصطلاحوں میں تعبیر کی جاتی ہے اور اس کا کائنات کے ساتھ تعلق دریافت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو مختلف نظریات سامنے آتے ہیں۔ ہندوستانی فکر (اپنشدوں) اور اسلامی فکر میں ذاتِ باری تعالیٰ کے حوالے سے دو مختلف مگر دلچسپ تصورات پائے جاتے ہیں، جن کے ملاپ نے اردو غزل کو ایک نیا فکری رنگ دیا۔
اپنشدوں کے فلسفے (ویدانت) کی رو سے اصل ہستی 'برہمہ' (خدائے مطلق) ہے، جو ہر قسم کی صفات اور عقل و ادراک کی رسائی سے بالاتر ہے۔ اس فلسفے کے مطابق برہمہ، آتما (روح) اور کائنات میں ایک ہی بنیادی رشتہ ہے۔ عالمِ رنگ و بو میں جو کثرت اور فرق ہمیں نظر آتا ہے، وہ محض اعتباری ہے، اصل نہیں۔ حقیقت صرف ایک ہے جو ہر جگہ موجود ہے۔ اس ایک حقیقت کے سوا جو کچھ بھی نظر آتا ہے، وہ 'مایا' یعنی فریبِ حواس اور طلسمِ خیال ہے۔
دوسری جانب، اسلام خدا کا تصور ایک ذاتِ واحد کی حیثیت سے کرتا ہے، لیکن قرآن کی رو سے خالق اور مخلوق میں واضح نسبت ہے۔ خدا نے کائنات کو اپنے خاص ارادے سے پیدا کیا ہے، اس لیے کائنات محض 'فریبِ نظر' یا 'مایا' نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ تاہم، اسلام میں روحانی ماورائیت اور کائنات کے فریبِ حواس ہونے کے خیالات 'تصوف' کے راستے سے داخل ہوئے۔ تصوف کے نظریۂ 'وحدت الوجود' (ہمہ اوست) کے مطابق ذاتِ باری کائنات کی ہر شے میں جاری و ساری ہے۔ چونکہ اس نظریے اور ہندوستانی ویدانتی فلسفے میں گہری مشابہت تھی، اس لیے ہندوستان میں وحدت الوجود کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔
عہدِ وسطیٰ میں وحدت الوجود کا نظریہ اس قدر مقبول ہوا کہ مذہب، اخلاق، تہذیب اور ادب کا کوئی شعبہ اس سے اچھوتا نہ رہا۔ اردو غزل میں روحانی ماورائیت کے ان خیالات نے ایک باقاعدہ موضوع کی حیثیت اختیار کر لی۔ غزل کے شعراء نے کثرت میں وحدت دیکھنے کی ہندوستانی ذہن کی خصوصیت کو اپنی شاعری کا جزوِ اعظم بنا لیا۔ ولیؔ دکنی کا یہ شعر اسی ہمہ گیر جلوے کی عکاسی کرتا ہے:
عیاں ہے ہر طرف عالم میں حسنِ بے حجاب اس کا
بغیر از دیدۂ حیراں نہیں جگ میں نقاب اس کا
شاہ نیاز بریلوی کی شاعری تو 'ہمہ اوست' (سب کچھ وہی ہے) کے نظریے کی مکمل تخلیقی تشکیل نظر آتی ہے۔ وہ کائنات کے ہر مظہر، چاہے وہ پھول ہو، بلبل ہو، شمع ہو یا پروانہ، سب میں اسی ایک ذات کا جلوہ دیکھتے ہیں:
صورتِ گل میں کھل کھلا کے ہنسا
شکلِ بلبل میں چہچہا دیکھا
شمع ہو کر کے اور پروانہ
آپ کو آپ میں جلا دیکھا
مرزا غالبؔ، جو اردو غزل کے سب سے بڑے مفکر شاعر مانے جاتے ہیں، ان کے یہاں بھی کائنات کی کثرت کو محض اعتباری اور صفاتی مانا گیا ہے، اور اصل حقیقت اسی ایک ذات کو قرار دیا گیا ہے۔ غالب کے نزدیک اس دنیا کی اپنی کوئی حیثیت نہیں، یہ صرف محبوبِ حقیقی کے جلوے کا ایک پرتو ہے:
دہر جز جلوۂ یکتائیِ معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
اردو غزل کا یہ وجودی میلان دراصل ہندوستانی اور اسلامی افکار کا وہ حسین سنگم ہے جس نے اردو شاعری کو ایک ایسی آفاقیت بخشی جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔
