Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اڑتی ہوئی آواز کے ارماں کی طرح تھا

ظفر اقبال

اڑتی ہوئی آواز کے ارماں کی طرح تھا

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    اڑتی ہوئی آواز کے ارماں کی طرح تھا

    وہ نقش کہ مٹ کر بھی نمایاں کی طرح تھا

    سورج میں نمایاں ہوا ذرہ تھا ہر اک شخص

    کہتے ہیں کبھی شہر بیاباں کی طرح تھا

    چنگھاڑتی چلاتی ہوئی سبز ہوا میں

    اک راز اترتے ہوئے طوفاں کی طرح تھا

    موسم کے مضافات پہ برسا ہے وہی ابر

    جو سر میں مرے دوو پریشاں کی طرح تھا

    تھیں چاروں طرف دھوپ کی دشوار فصیلیں

    یوں میرے لیے دشت بھی زنداں کی طرح تھا

    آنکھوں کی چمک تھی کہ بکھرتے ہوئے پتے

    کچھ خواب خزاں مطلع مژگاں کی طرح تھا

    عریاں کے عقب زار کو جاتا ہوا جنگل

    مشکل تو بہت تھا مگر آساں کی طرح تھا

    آئینہ آشوب میں دھندلایا ہوا عکس

    عنواں کی طرح تھا کبھی امکاں کی طرح تھا

    روشن تھا ظفرؔ وسط میں مہتاب ملاقات

    میں چاروں طرف ہالۂ ہجراں کی طرح تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے