اڑتی ہوئی آواز کے ارماں کی طرح تھا
اڑتی ہوئی آواز کے ارماں کی طرح تھا
وہ نقش کہ مٹ کر بھی نمایاں کی طرح تھا
سورج میں نمایاں ہوا ذرہ تھا ہر اک شخص
کہتے ہیں کبھی شہر بیاباں کی طرح تھا
چنگھاڑتی چلاتی ہوئی سبز ہوا میں
اک راز اترتے ہوئے طوفاں کی طرح تھا
موسم کے مضافات پہ برسا ہے وہی ابر
جو سر میں مرے دوو پریشاں کی طرح تھا
تھیں چاروں طرف دھوپ کی دشوار فصیلیں
یوں میرے لیے دشت بھی زنداں کی طرح تھا
آنکھوں کی چمک تھی کہ بکھرتے ہوئے پتے
کچھ خواب خزاں مطلع مژگاں کی طرح تھا
عریاں کے عقب زار کو جاتا ہوا جنگل
مشکل تو بہت تھا مگر آساں کی طرح تھا
آئینہ آشوب میں دھندلایا ہوا عکس
عنواں کی طرح تھا کبھی امکاں کی طرح تھا
روشن تھا ظفرؔ وسط میں مہتاب ملاقات
میں چاروں طرف ہالۂ ہجراں کی طرح تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.