آگاہی کی خواہش نکلی گھپ اندھے پاتال کی راہ
آگاہی کی خواہش نکلی گھپ اندھے پاتال کی راہ
پل بھر ایک فریب تجلی پھر صدیوں تک روز سیاہ
خواب جنوں کا جادو ٹوٹا شوق جمال کی جوت بجھی
دل کا یہ کیا رنگ ہوا اے مرحلۂ تغییر نگاہ
شوق خزاں کی ہوا سے جیسے شاخ برہنہ ہو جائے
خواب دکان شیشہ جیسے برہم ہو جائے ناگاہ
روح کی عزلت میں سنتا ہوں ڈوبتی سی اک چیخ کبھی
رات کی تاریکی میں جیسے دور کسی گھائل کی کراہ
سو سو روپ بدل کر ہر دم میرا تعاقب کرتا ہے
اب میرا ابلیس ہے اے معبود مرا نا کردہ گناہ
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.