ہمارے پاس تھے کل تک جو زندگی کی طرح
ہمارے پاس تھے کل تک جو زندگی کی طرح
بچا کے گزرے ہیں دامن وہ اجنبی کی طرح
اب اعتبار کی حد سے نکل گئی ہے لگن
وہ دل لگاتے ہیں ہر اک سے دل لگی کی طرح
وہ چاہتے ہیں انہیں ہم خدا بنا ڈالیں
سلوک کرتے ہیں جو ہم سے آدمی کی طرح
نیا زمانہ نئی روشنی نئے انساں
جہاں سے اٹھ گئی ہر رسم عاشقی کی طرح
ہمیں ملی ہے کسی کے لہو سے آزادی
ہمارا خون بھی شامل ہو اب کسی کی طرح
نہیں ہے غم بھی مرا آپ ہی کے غم جیسا
مری خوشی بھی نہیں آپ کی خوشی کی طرح
وہ بات جس کے لئے غمزدہ تھے ہم واصفؔ
وہ بات بھول گئی ہے ہمیں ہنسی کی طرح
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.