سلسلہ ٹوٹنے بکھرنے کا
سلسلہ ٹوٹنے بکھرنے کا
اب بھی جاری ہے جینے مرنے کا
وقت ہے کس کے پاس دیکھو تو
سوچنے اور فکر کرنے کا
زندگی درد کے سوا کیا ہے
کام زخموں کو سی کے بھرنے کا
آئنہ لے کے بیٹھیے صاحب
گر ارادہ ہو کچھ سنورنے کا
کون سا کام ہو نہیں سکتا
حوصلہ ہو جو کر گزرنے کا
آپ کے ساتھ ہی ارادہ ہے
اب تو فرحانؔ جینے مرنے کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.