مجھے کب زندگی کی آرزو ہے
مجھے کب زندگی کی آرزو ہے
مگر جب تک تمہاری جستجو ہے
بہاریں ہی بہاریں ہیں چمن میں
گلوں میں رنگ ہے باقی نہ بو ہے
ڈبویا ناخدا نے جو سفینہ
کناروں کو اسی کی جستجو ہے
جدائی کی شکایت کر رہا ہوں
اسی سے جو ہمیشہ روبرو ہے
ترے چہرے کی رنگت دیکھتا ہوں
یہ کس کی آرزوؤں کا لہو ہے
جسے تو پی رہا ہے میکدے میں
لہو ہے وہ لہو ہے وہ لہو ہے
تجھے اک بار کیا واصفؔ نے دیکھا
تجھے پھر دیکھنے کی آرزو ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.