زیر زمیں رہے نہ تہہ آسماں رہے
زیر زمیں رہے نہ تہہ آسماں رہے
عالم وہ کوئی اور ہی تھا ہم جہاں رہے
وہ مہربان ہو کے جو پوچھیں بھی حال زار
قابو میں دل رہے نہ کہے میں زباں رہے
جب دل جلے تو آئے نہ کیوں کر زباں پہ آہ
ممکن نہیں کہ شعلے سے دب کر دھواں رہے
دل کی خلش کے لطف پہ صدقے جہاں کا چین
آزار بن کے بھی تو وہ آرام جاں رہے
جاتے ہوئے حواس سے پوچھا نہ اے کلیمؔ
ہم تو اسی مقام پہ تھے تم کہاں رہے
تیور دکھائے اس نے کچھ ایسے کہ ہم منیرؔ
منہ میں زبان ہوتے ہوئے بے زباں رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.