رفتہ رفتہ میری آہوں میں اثر آ ہی گیا
رفتہ رفتہ میری آہوں میں اثر آ ہی گیا
آتے آتے وہ ستم گر راہ پر آ ہی گیا
یہ تو سچ ہے وصل کا دن میری قسمت میں کہاں
فرض کر لو بھولے دھوکے سے اگر آ ہی گیا
کچھ نہ کچھ آخر کیا ہے میرے نالوں نے اثر
لے کے خنجر ہاتھ میں وہ فتنہ گر آ ہی گیا
دیکھ کر مجھ کو وہ کہتے ہیں خدا اس سے بچائے
بزم دشمن میں بھی یہ شوریدہ سر آ ہی گیا
اس کو ایسی ہی پڑی ہے نامہ بر ہاں کیوں نہیں
کہہ دیا تجھ سے تو وہ اب میرے گھر آ ہی گیا
مجھ کو روتے دیکھ کر وہ آج خود بھی رو دیئے
رحم آخر ان کو میرے حال پر آ ہی گیا
تیری خواہش سے نہ ہوگا میری قسمت سے سہی
ظلم کرنا تجھ کو اے بیداد گر آ ہی گیا
خیر وہ دشمن نہ ہوں نفرت تو کرنے ہی لگے
کچھ نہ کچھ دشمن کی صحبت کا اثر آ ہی گیا
اب اجل پھرنے لگی میری نگاہوں میں قمرؔ
عشق کا انجام آخر کو نظر آ ہی گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.