جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا
جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا
ہاتھ سے دل کے ترے اب میں نکل جاؤں گا
لطف اے اشک کہ جوں شمع گھلا جاتا ہوں
رحم اے آہ شرربار کہ جل جاؤں گا
قطرۂ اشک ہوں پیارے مرے نظارے سے
کیوں خفا ہوتے ہو پل مارتے ڈھل جاؤں گا
چھیڑ مت باد بہاری کہ میں جوں نکہت گل
پھاڑ کر کپڑے ابھی گھر سے نکل جاؤں گا
کہتے ہیں وہ جو ہے سوداؔ کا قصیدہ ہے خوب
ان کی خدمت میں لیے میں یہ غزل جاؤں گا
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.