Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا

محمد رفیع سودا

جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا

    ہاتھ سے دل کے ترے اب میں نکل جاؤں گا

    لطف اے اشک کہ جوں شمع گھلا جاتا ہوں

    رحم اے آہ شرربار کہ جل جاؤں گا

    قطرۂ اشک ہوں پیارے مرے نظارے سے

    کیوں خفا ہوتے ہو پل مارتے ڈھل جاؤں گا

    چھیڑ مت باد بہاری کہ میں جوں نکہت گل

    پھاڑ کر کپڑے ابھی گھر سے نکل جاؤں گا

    کہتے ہیں وہ جو ہے سوداؔ کا قصیدہ ہے خوب

    ان کی خدمت میں لیے میں یہ غزل جاؤں گا

    مأخذ :
    • مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے