اس کو خزاں کے دور میں باغی سمجھ کے چوم
جو بھی شجر پہ آخری پتا دکھائی دے
-
موضوعات : خزاںاور 1 مزید
جو بھی ملتا ہے بغاوت پہ اتر آتا ہے
کچھ کجی شہر کی دیوار میں رکھی ہوئی ہے
لے کے میں تنہا ہی نکلوں گا بغاوت کا علم
مصلحت کی گود میں جب فلسفی سو جائیں گے