Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پیغام پر اشعار

پیغام تو ان کا آیا ہے تم شہر میں تشنہؔ آ جاؤ

صحرا ہے پسندیدہ ہم کو ہم شہر میں جا کر کیا کرتے

ظہیر الحسن تشنہ

ضرور امن کا پیغام لے گیا تھا کہیں

پرندہ لوٹا لئے پر لہو میں ڈوبے ہوئے

عبدالرؤف انجم

نشیب ہستی سے افسوس ہم ابھر نہ سکے

فراز دار سے پیغام آئے ہیں کیا کیا

کیفی اعظمی

نگاہیں ان کی سب کچھ کہہ گئی ہیں

کوئی لے کر پیام آئے نہ آئے

جے کرشن چودھری حبیب

کن راہوں سے ہو کر آئی ہو کس گل کا سندیسہ لائی ہو

ہم باغ میں خوش خوش بیٹھے تھے کیا کر دیا آ کے صبا تم نے

ابن انشا

اے رنگون میں چلتی ہوا میرا سندیسہ لیتی جا

تیرا تو ان کی گلیوں میں آنا جانا ہوگا ہی

کمار پاشی

مدت ہوئی اس کو کہ مری خلوت شب میں

پیغام جو لائی تھی صبا یاد ہے اب تک

سردار خان سوز

کب وہ پیغام رسا ہو کہ مجھے صبر نہیں

کاکل خم کے لئے شعر رقم کرتا ہوں

اسامہ امیر
بولیے