عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے
-
موضوعات : عیادتاور 1 مزید
یہ بھوگ بھی ایک تپسیا ہے تم تیاگ کے مارے کیا جانو
اپمان رچیتا کا ہوگا رچنا کو اگر ٹھکراؤ گے
سنا اقبال عصیاں خلوتوں میں وجہ بخشش ہے
کلیساؤں میں یہ طرز عبادت عام ہے ساقی
-
موضوعات : ساقیاور 1 مزید
تھے میری راہ میں لاکھوں بتان نخوت و ناز
کہیں بھی سر نہ جھکا تیرے نقش پا کے سوا
-
موضوع : بت
عبادتوں کے معاوضے میں ملے گی جو عابدوں کو جنت
تم اس کا نقشہ کچھ ایسا کھینچو کہ دل پھسل جائے آدمی کا
-
موضوعات : طنزاور 1 مزید
اب تو ہی میری خالی ہتھیلی کی لاج رکھ
مجھ سے تو کوئی فرق عبادت میں رہ گیا
-
موضوع : دعا
نماز کیا لغزش قدم بھی ہے مستجاب اس کی بارگہہ میں
اگر میسر حضور دل ہو گناہ بھی بے وضو نہ کرنا
-
موضوعات : دلاور 1 مزید
ستارے توڑ لیے ہم نے زہد و تقویٰ کے
مگر جو حق عبادت تھا وہ ادا نہ ہوا