ادب کی تاریخ کا ایک نہایت حیرت انگیز مگر مسلمہ اصول یہ ہے کہ بڑا شاعر اپنا کوئی اسکول قائم نہیں کرتا۔ یہ بات بظاہر عجیب معلوم ہوتی ہے کہ جس فنکار کی عظمت کا ایک زمانہ معترف ہو، اس کی پیروی کرنے والے کیوں پیدا نہیں ہوتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بڑے شاعر کی آنکھ بند ہوتے ہی جو نیا شعری اسلوب نمودار ہوتا ہے، وہ اس کے اسلوب کی تقریباً ضد ہوتا ہے، یا کم از کم اس سے قطعاً مختلف ضرور ہوتا ہے۔ یہ کلیہ صرف اردو شاعری تک محدود نہیں بلکہ عالمی ادب پر بھی یکساں صادق آتا ہے۔ یونان کے تینوں بڑے ڈراما نگار ایک دوسرے سے نہ صرف مختلف ہیں بلکہ اکثر متغائر بھی۔ انگریزی ادب میں شیکسپیئر کے بعد آنے والوں نے اس کے اسالیب کو ترک کر دیا، اور ملٹن جیسی عظیم المرتبت شخصیت کا اسلوب بھی صدیوں تک انگریزی شاعری کی مستند برادری سے باہر رہا۔
اردو شاعری کی روایت میں میر تقی میر اور مرزا غالب اس اصول کی سب سے بڑی اور روشن مثالیں ہیں۔ میر کا ایک زمانہ معترف تھا، ان کے کلام کی سحر انگیزی نے سب کو مسحور کر رکھا تھا، لیکن ناسخ، آتش اور مصحفی جیسے اساتذہ تک نے میر کی پیروی نہ کی۔ یہی حال غالب کا ہوا۔ ان کی شاعری نے رفتہ رفتہ اپنے مداح تو بے شمار پیدا کر لیے، لیکن ان کی طرح کا شعر کہنا کسی نے پسند نہ کیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بڑا شاعر جن خصوصیات، تجربات اور لسانی رویوں کا مرکب ہوتا ہے، وہ اس قدر منفرد اور شاذ ہوتے ہیں کہ کوئی دوسرا انہیں اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا۔
بڑے شاعر کی پہچان یہ نہیں ہے کہ اس کے بہت سے پیروکار (Camp Followers) ہوں، بلکہ اس کی اصل پہچان یہ ہے کہ اس کے پیچھے آنے والے اس کا اسلوب ترک کر دیں۔ یہ ایک غیر شعوری فرار ہوتا ہے جو اس قدر شدید ہوتا ہے کہ غالب جیسی مسلم انفرادیت رکھنے والے شاعر کے ذہین ترین شاگردوں، مثلاً مولانا حالی، نے بھی ان کا لب و لہجہ اختیار نہ کیا۔ جب کوئی معمولی شاعر کسی بڑے شاعر کی تقلید کی کوشش کرتا ہے، تو وہ محض الفاظ و قوافی کی نقالی تک محدود رہ جاتا ہے، جس سے اصل اور نقل کا فرق اس درجہ نمایاں ہو جاتا ہے کہ دوسروں کے لیے باعثِ عبرت بنتا ہے۔
دراصل، شاعر کی انفرادیت اس کے تجربات اور الفاظ کی طرف اس کے رویے میں مضمر ہوتی ہے۔ جتنا بڑا شاعر ہوگا، اتنا ہی اس کا تجربہ دوسروں کی پہنچ سے باہر ہوگا۔ اور جب تجربہ ہی دوسروں کی دسترس سے باہر ہو تو اس کی نقل کیونکر ممکن ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بڑے شاعر کا اسلوب دوسروں کو راس نہیں آتا اور خاص کر ان کے لیے تو وبالِ جان بن جاتا ہے جو اس کے گھنے سائے میں اپنا پودا اگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا، شعر کی تاریخ اس کلیے کی تائید کرتی ہے کہ بڑے شاعر کا اثر براہِ راست تقلید کے بجائے بے نام اور غیر محسوس طریقے سے پھیلتا ہے، جو آنے والی نسلوں کے فکری اور تنقیدی شعور کو تو بدل دیتا ہے، مگر انہیں اپنا مقلد نہیں بناتا۔
