اردو ادب کی تاریخ میں اسرار الحق مجاز کا نام ایک ایسے درخشاں ستارے کی مانند ہے جو بہت تیزی سے ابھرا، جس کی روشنی نے سب کی آنکھوں کو خیرہ کیا، اور پھر وہ جلد ہی تاریکیوں میں گم ہو گیا۔ ممتاز نقاد آل احمد سرور نے مجاز کی شخصیت اور ان کے فن کا گہرا تجزیہ کرتے ہوئے انہیں 'رومانیت کا شہید' قرار دیا ہے۔ یہ اصطلاح مجاز کی زندگی اور ان کی شاعری کے اس المیے کو بخوبی بیان کرتی ہے جہاں ایک حساس دل اور خوابیدہ ذہن کا تصادم دنیا کے سنگلاخ حقائق سے ہوتا ہے۔
عام طور پر رومانیت کو محض عشق و محبت اور حدیثِ دلبری تک محدود سمجھا جاتا ہے، لیکن سرور صاحب کے نزدیک یہ دراصل تخیل پرستی کی وہ انتہا ہے جہاں عقل اور حقائق کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ اردو شاعری میں رومانیت کی لہر اختر شیرانی اور مجاز دونوں کے یہاں ملتی ہے، مگر مجاز کی رومانیت اختر شیرانی سے اس معنوں میں مختلف ہے کہ اس میں محض عنفوانِ شباب کے عشق کا سوز و ساز نہیں، بلکہ انقلاب کے حسین خواب بھی شامل ہیں۔ مجاز کی رومانیت میں جوش ملیح آبادی جیسی باغیانہ گھن گرج تو ہے، مگر اس میں کرختگی کے بجائے ایک دل نشیں نرمی اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
مجاز سر تا پا شاعر تھے۔ وہ خوابوں کی دنیا کے باسی تھے اور ان کے پاس زندگی اور ادب کا ایک واضح تصور تھا۔ تاہم، ان کی طبیعت میں وہ مجاہدانہ صلابت اور مضبوطی نہیں تھی جو زندگی کی تلخیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ جب ان کے حسین خوابوں کو زمانے کے حقائق نے چور چور کر دیا، تو انہوں نے پلٹ کر حالات پر وار کرنے کے بجائے خاموشی سے سپر ڈال دی اور اپنی ناکامیوں کا علاج شراب میں ڈھونڈنے لگے۔ اسی سپردگی اور حالات کے سامنے ہار مان لینے کی وجہ سے انہیں رومانیت کا شہید کہا جاتا ہے۔
ان کی مشہور نظم 'آوارہ' اس رومانیت اور المیے کی سب سے بڑی اور خوبصورت مثال ہے۔ یہ نظم محض ایک فرد کی نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کے درد و داغ، اس کی آرزو، جستجو، محرومی اور سرشاری کی علامت بن گئی ہے۔ اس نظم میں مناظر کا حسن اور دل کی ویرانی جس طرح یکجا ہوئے ہیں، وہ مجاز کے تخلیقی کمال کا ثبوت ہے:
جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
میرے سینے پر مگر چلتی ہوئی شمشیر سی
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
مجاز کے اندر کا یہ شعلہ جب بھڑکتا ہے تو وہ اپنے ذاتی کرب کو ایک آفاقی درد میں بدل دیتے ہیں۔ ان کی رومانیت میں جو جان دار، صحت مند اور باشعور حصہ ہے، اس کی قدر و قیمت اردو ادب میں ہمیشہ مسلم رہے گی۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک شہابِ ثاقب کی طرح نمودار ہوئے، مگر سستی داد، طبیعت کی کمزوری اور کاروباری دنیا کی بے حسی نے اس شعلے کو نگل لیا۔
دل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں
میرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروں
زخم سینے کا مہک اٹھا ہے آخر کیا کروں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
مجاز کی شاعری میں خوابوں کی خوب صورتی، انقلاب کی آرزو اور ٹوٹے ہوئے دل کا درد ایک ساتھ نظر آتا ہے۔ ان کی زندگی بھلے ہی رومانیت کا ایک المیہ بن گئی، لیکن ان کی شاعری آج بھی انسانی احساسات اور سماجی بے چینی کی ایک مؤثر آواز ہے۔
