سعادت حسن منٹو کی ادبی زندگی کا ایک بڑا حصہ عدالتوں کے چکر کاٹتے اور اپنے فن کی صفائی پیش کرتے گزرا۔ 'کالی شلوار'، 'دھواں'، 'ٹھنڈا گوشت' اور 'اوپر نیچے اور درمیان' جیسے افسانوں پر چلنے والے مقدمات محض ایک ادیب کی آزمائش نہیں تھے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت تھے کہ معاشرے کے قانونی اور اخلاقی ضابطے کس قدر فرسودہ اور تنگ نظر ہو سکتے ہیں۔ شمیم حنفی کے مطابق، قانون اور سنسر شپ کے ادارے اکثر ان سچائیوں سے خوفزدہ رہتے ہیں جو ان کے بنائے ہوئے مفروضات کو چیلنج کرتی ہیں۔
'ٹھنڈا گوشت' کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مجسٹریٹ نے لکھا تھا کہ یہ کہانی 'پاکستان کے مروجہ اخلاقی معیار' کی خلاف ورزی کرتی ہے اور اس میں قارئین کا اخلاقی معیار بگاڑنے کا میلان موجود ہے۔ یہ طرزِ فکر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ قانون ادب کو محض ایک افادی شے سمجھتا ہے، جس کا مقصد 'صحت مند' خیالات کی ترویج ہو۔ لیکن منٹو کا ماننا تھا کہ ادب معاشرے کا درجہ حرارت بتاتا ہے، یہ علالت کی خبر دیتا ہے۔ اگر معاشرہ بیمار ہے، تو ادب اس بیماری کو چھپانے کے بجائے اسے بے نقاب کرے گا۔
سنسر شپ کی تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں ان کتابوں کو فحش قرار دیا گیا جو مروجہ عقائد، سیاسی نظریات یا اخلاقی روایات سے ٹکراتی تھیں۔ چاہے وہ جیمز جوائس کی 'یولیسس' ہو، بودلیئر کی شاعری ہو، یا منٹو کے افسانے۔ قانون کی نظر میں فحاشی کا معیار اکثر 'اوسط درجے کی جنسی جبلتیں رکھنے والے آدمی' کا ردعمل ہوتا ہے۔ یہ کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ کسی مشین کے عمل کو سمجھنے کے لیے تو ماہرین سے رجوع کیا جاتا ہے، لیکن ادب کے نازک اور پیچیدہ معاملات کا فیصلہ عام سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد یا تنگ نظر محتسبین کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
منٹو نے اپنے دفاع میں ہمیشہ یہ دلیل دی کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتے۔ انہوں نے کہا: 'ہم وکیلوں، نائیوں، دھوبیوں، چوروں اور ٹھگوں کے متعلق بات کر سکتے ہیں... تو ہم ویشیا کے متعلق کیوں نہیں سوچ سکتے؟ اس کے پیشے کے بارے میں کیوں غور نہیں کر سکتے؟' منٹو کا یہ سوال دراصل اس منافقانہ نظامِ احتساب پر ایک زبردست طنز تھا جو حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے قالین کے نیچے چھپانے کو ترجیح دیتا ہے۔
آج کے دور میں، جب دنیا بھر میں سنسر شپ کے قوانین میں لچک آ چکی ہے اور ادب کو اس کے حقیقی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، منٹو پر چلنے والے مقدمات ہمیں دورِ وحشت کی یاد دلاتے ہیں۔ منٹو نے ان تمام صعوبتوں کو برداشت کیا، پولیس اور عدالتوں کی ذلت سہی، لیکن اپنے قلم کی سچائی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کا وجود اور ان کی تحریریں آج بھی ان تمام قوانین اور ضابطوں پر ایک سوالیہ نشان ہیں جو انسانی حواس اور تجربات کی وسعت کو چند فرسودہ شقوں میں قید کرنا چاہتے ہیں۔
