اردو شاعری کا جب آغاز ہوا تو اس پر فارسی ادب اور روایت کا گہرا اثر تھا۔ فارسی غزل کی جان عشق و محبت کی داستانیں اور رندی و سرمستی کے مرقعے تھے، جو فطری طور پر اردو غزل کا بھی حصہ بن گئے۔ تاہم، اردو شاعری کے اس ابتدائی دور میں مے نوشی اور خمریات کا مفہوم آج کے مروجہ معنوں سے یکسر مختلف تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شاعری اور درویشی کو مترادف سمجھا جاتا تھا اور اردو کی ابتدائی شاعری مکمل طور پر تصوف کے رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
صوفیائے کرام کے نزدیک طریقت کا راستہ شریعت کے ظاہری راستے سے قدرے مختلف تھا۔ شریعت جہاں ظاہری احکامات پر زور دیتی تھی، وہیں طریقت میں باطنی کیفیت، روح کی پاکیزگی اور معرفتِ الٰہی کو سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ عالمِ باطن کے مدارج طے کرنے کے لیے صوفیاء نے عشقِ مجازی کو ایک زینے کے طور پر استعمال کیا، لیکن ان کی لغت میں مروجہ اصطلاحات کے معنی بالکل مختلف تھے۔ اس صوفیانہ نظامِ علامت میں 'شراب' سے مراد عرفانِ الٰہی، 'ساقی' سے مراد ساقیِ روزِ اول (اللہ تعالیٰ)، اور 'پیرِ مغاں' سے مراد پیرِ طریقت تھا۔ اسی طرح شیخ یا زاہد کی تضحیک اس لیے کی جاتی تھی کہ وہ محض ظاہری عبادات پر فخر کرتا تھا اور باطن کی صفائی سے غافل تھا۔
قدماء کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے تصوف کے ان دقیق مضامین کو اس خوبصورتی سے بیان کیا کہ غزل کی لطافت اور تغزل بھی برقرار رہا اور معرفتِ الٰہی کے مضامین عشقِ مجازی سے ہم آہنگ ہو گئے۔ ولی دکنی سے لے کر خواجہ میر درد تک، ہمیں شرابِ معرفت کے یہ مضامین بکثرت ملتے ہیں۔ ولی دکنی کے یہاں اگرچہ مادی حسن کا تذکرہ بھی ہے، لیکن بحیثیت مجموعی ان کی شراب سے مراد وہی عرفان کی شراب ہے۔ وہ زاہد کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر محبوب کے ہاتھ میں جام ہو تو پرہیزگاری بھی ڈگمگا جاتی ہے:
آلودہ کیوں نہ ہووے دامانِ پاک زاہد
جب دست نازنیں میں جام شراب ہووے
خواجہ میر درد، جو خود ایک باعمل صوفی تھے، ان کے یہاں بھی خمریات کا رنگ خالصتاً صوفیانہ اور علامتی ہے۔ وہ اپنی باطنی کیفیت اور دن رات کے استغراق کو صراحی اور شیشے کی علامتوں کے ذریعے کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
شب و روز اس طرح گزرے ہیں اپنی تو نہ پوچھو کچھ
صراحی صبح کو گر ہاتھ ہے تو شام ہے شیشہ
اسی دور میں ظاہری عبادات پر غرور کرنے والے زاہدوں اور شیخوں کو صوفی شعراء کی جانب سے زبردست جواب دیا گیا۔ درد کا یہ مشہورِ زمانہ شعر اسی باطنی پاکیزگی اور طریقت کی برتری کا اعلان ہے، جس میں وہ بتاتے ہیں کہ رندوں کی ظاہری خرابی پر نہ جاؤ، ان کا باطن فرشتوں سے زیادہ پاک ہے:
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
غرض یہ کہ اردو شاعری کا یہ ابتدائی دور خمریات کو ایک مقدس اور روحانی علامت کے طور پر برتنے کا دور تھا، جہاں مے خانہ دراصل خانقاہ کا نعم البدل تھا اور شراب، روح کو بیدار کرنے والے عشقِ الٰہی کا استعارہ تھی۔
