رامائن محض ایک جنگ یا حق و باطل کی کشمکش کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی رشتوں، جذبات، ایثار اور قربانی کا ایک بے مثال مرقع ہے۔ اردو شاعری نے رامائن کے ان جذباتی، نفسیاتی اور اخلاقی پہلوؤں کو نہایت گہرائی اور دردمندی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اردو شعراء نے رام کو ایک مثالی بیٹے، شوہر اور بھائی کے طور پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ، اس داستان کے نسوانی کرداروں—خاص طور پر سیتا اور کوشلیا—کے احساسات اور محسوسات کی بھرپور شعری ترجمانی کی ہے۔
جب شری رام کو چودہ برس کے بنواس کا حکم ملتا ہے، تو یہ خبر پورے اجودھیا پر بجلی بن کر گرتی ہے۔ اس کٹھن وقت میں سیتا کا کردار ایک مثالی اور وفا شعار بیوی کے طور پر ابھرتا ہے۔ وہ محلات کی آسائشوں کو ٹھکرا کر اپنے شوہر کے ساتھ جنگل کی خاک چھاننے کو ترجیح دیتی ہیں۔ سیتا کی اس والہانہ محبت اور عزم کو رگھونندن سنگھ ساحر دہلوی نے نہایت خوبصورت اور پرتاثیر انداز میں قلم بند کیا ہے۔ جب سیتا کو رام کے بنواس کا علم ہوتا ہے تو وہ رام سے مخاطب ہو کر اپنے اٹل فیصلے کا اظہار کرتی ہیں:
رام کے بن جانے کا جب علم سیتا کو ہوا
چہرہ روشن وفورِ غم سے پھیکا پڑ گیا
رام کو کرکے مخاطب اس طرح اُس نے کہا
آپ کے ہمراہ میں بن کی کروں گی یاترا
آپ جائیں گے جہاں میں بھی وہیں پر جاؤں گی
ورنہ گھُل گھُل کر فراقِ دید میں مر جاؤں گی
سیتا کے اس عزم کے بعد، داستان کا سب سے المیہ اور دلدوز منظر وہ ہے جب فرمابردار رام اپنی والدہ ماتا کوشلیا سے رخصت مانگنے جاتے ہیں۔ ایک ماں کے لیے اپنے جوان اور لائق بیٹے کو چودہ برس کے لیے جنگلوں کی خاک چھاننے کے لیے الوداع کہنا کس قدر جاں گسل ہو سکتا ہے، اس کی تصویر کشی پنڈت برج نرائن چکبست نے اپنی مشہورِ زمانہ نظم 'رامائن کا ایک سین' میں کی ہے۔ چکبست نے کوشلیا کے مادرانہ کرب، ان کی بے بسی اور رام کے ضبط کو جس فنی کمال اور سوز و گداز کے ساتھ پیش کیا ہے، وہ اردو جذبات نگاری کا ایک شاہکار ہے۔
رام جب اپنی ماں کے پاس پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ صدمے سے نڈھال ہیں اور ان کے جسم میں خون کا قطرہ تک نہیں رہا۔ کوشلیا اپنے بیٹے کو دیکھ کر جس درد بھرے لہجے میں فریاد کرتی ہیں، وہ کسی بھی پتھر دل کو پگھلانے کے لیے کافی ہے۔ چکبست اس منظر کی عکاسی یوں کرتے ہیں:
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام
راہِ وفا کی منزل اوّل ہوئی تمام
منظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظام
دامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلام
دیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حال
سکتا سا ہو گیا ہے یہ ہے شدّتِ ملال
تن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہے
گویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہے
رو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاں
میں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاں
سب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواں
لیکن میں اپنے منھ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاں
کس طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوں
جوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوں
یہ اشعار محض ایک مذہبی داستان کا حصہ نہیں رہتے، بلکہ یہ ہر اس ماں کے دل کی آواز بن جاتے ہیں جو اپنے بچے سے بچھڑ رہی ہو۔ اردو شعراء نے رامائن کے ان کرداروں کو عقیدت کے خول سے نکال کر جیتے جاگتے، دھڑکتے اور محسوس کرتے انسانوں کے طور پر پیش کیا ہے، جس سے اس داستان کی آفاقیت اور جمالیاتی قدر و قیمت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
