بچپن کی دنیا ایک سحر انگیز اور حیرتوں سے بھری دنیا ہوتی ہے۔ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو ہمارے لیے ہر شے نئی، انوکھی اور پراسرار ہوتی ہے۔ اس نوخیز عمر میں کہانیاں ہماری زندگی میں ایک ایسا رنگ بھرتی ہیں جس سے ہماری دنیا مزید خوشگوار ہو جاتی ہے۔ 'ایک تھا بادشاہ، چڑیا لائی مونگ کا دانہ' جیسے سادہ اور معصوم الفاظ سے شروع ہونے والی کہانیاں بظاہر کوئی بڑی ادبی اہمیت نہیں رکھتیں، لیکن یہ ہماری ابتدائی زندگی کی اہم ترین نفسیاتی اور ذہنی ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔ کلیم الدین احمد کے مطابق، جس طرح انسان اپنے ارتقائی سفر کی ابتدائی منازل میں ہر چیز کو حیرت سے دیکھتا تھا، بالکل اسی طرح بچہ بھی اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اور اس عمل میں کہانیاں اس کی سب سے بڑی ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں۔
انسانی دماغ کی ترقی کا ایک بنیادی محرک 'تجسس' ہے۔ یہ وہی مادہ ہے جو انسان کو نئی چیزوں کی کھوج، اسباب کی تلاش اور ماہیت کو سمجھنے پر مجبور کرتا ہے۔ بچپن میں یہ تجسس اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ بچہ جب نئی کہانیاں سنتا ہے تو اس کا ذہن ایک خیالی دنیا کی طرف پرواز کرتا ہے۔ وہ ہر نئی بات کو جاننے کے لیے بے چین رہتا ہے۔ کہانیوں کے ذریعے اس کے ذوقِ تجسس کی تسکین ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے تخیل کی آبیاری بھی ہوتی ہے۔ یہ کہانیاں اسے دماغی کاہلی سے بچاتی ہیں اور اس کی ذہنی قوتوں کو جلا بخشتی ہیں۔
تخیل کی اہمیت انسانی زندگی میں روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ کہانیاں بچوں کے تخیل کو وسعت دینے کا ایک نہایت مفید اور طاقتور ذریعہ ہیں۔ ان کہانیوں میں ایک ایسی دنیا کا ذکر ہوتا ہے جو بچے کی روزمرہ کی جانی پہچانی دنیا سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ ان دیکھی چیزیں، غیر معمولی واقعات اور فوق الفطرت عناصر بچے کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنے تخیل سے کام لے۔ وہ اپنے ذہن کی آنکھ سے ان مناظر کو دیکھتا ہے، خود کو کہانی کا ہیرو تصور کرتا ہے اور اس خیالی دنیا میں سانس لینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح اس کی ذہنی زندگی محدود دائروں سے نکل کر بے پناہ وسعت اختیار کر لیتی ہے۔
ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ کہانیاں بچے کی جذباتی تربیت کا بھی فریضہ انجام دیتی ہیں۔ کہانیوں کے کرداروں کے ساتھ بچہ ہنستا ہے، روتا ہے اور ان کے دکھ درد کو محسوس کرتا ہے۔ اس عمل سے اس کے اندر ہمدردی، ترحم اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کے جذبات ابھرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا اور ان کی تکلیف پر آزردہ ہونا سیکھتا ہے۔ الغرض، یہ کہانیوں کا ہی فیض ہے کہ بچہ ان اعلیٰ انسانی صفات کو اپنے اندر پروان چڑھاتا ہے جو اسے ایک سچا اور مکمل انسان بناتی ہیں۔ ان کے بغیر انسانی زندگی کا ارتقاء اور اس کی تکمیل ناممکن ہے۔
