شاعری محض الفاظ کے جوڑ توڑ یا قافیہ پیمائی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی جذبات، کیفیات اور نفسیات کے لطیف ترین پہلوؤں کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ نیاز فتح پوری کے مطابق، مومن خاں مومن اردو کے ان معدودے چند شعراء میں سے ہیں جو نفسیاتی رموز کو گہرائی سے سمجھ کر شاعری کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں ایسی معنوی نزاکتیں اور نفسیاتی گتھیاں موجود ہیں جن کا ادراک محض سرسری مطالعے سے نہیں، بلکہ غور و فکر اور تجزیے کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔
مومن انسانی فطرت کے ان پہلوؤں کو چھوتے ہیں جو عام طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انسان کس طرح سوچتا ہے، اس کے ردعمل کیا ہوتے ہیں، اور وہ کس طرح کے مشوروں یا باتوں کو قبول یا رد کرتا ہے۔ اس نفسیاتی درک کی ایک بہترین مثال ان کا یہ بظاہر سادہ سا شعر ہے:
دن رات فکر جور میں یوں رنج اٹھانا کب تلک
میں بھی ذرا آرام لوں، تم بھی ذرا آرام لو
اس شعر میں محبوب کو ظلم و ستم سے روکنے کے لیے جو دلیل دی گئی ہے، وہ خالصتاً نفسیاتی ہے۔ عام طور پر جب کسی کو کوئی ایسا مشورہ دیا جائے جس میں بظاہر صرف اسی کا فائدہ ہو، تو انسانی فطرت گمانِ بد کی بنا پر اسے شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ لیکن اگر مشورہ دینے والا یہ ظاہر کر دے کہ اس میں تھوڑا سا فائدہ اس کا اپنا بھی ہے، تو وہ بات فوراً دل میں اتر جاتی ہے۔ مومن کا یہ کہنا کہ 'میں بھی ذرا آرام لوں' اسی نفسیاتی اصول کے عین مطابق ہے۔
مومن کے یہاں بعض اوقات ایسے مخفی اور پرکیف مفہوم پائے جاتے ہیں جو قاری کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ موت اور زندگی کے روایتی تصورات کو بھی ایک نئے اور انوکھے زاویے سے پیش کرتے ہیں۔ شبِ فراق کی تکلیف سے مر جانے کی آرزو کرنا ایک عام اور پامال مضمون ہے، لیکن مومن اس کی توجیہہ جس حسن اور نفسیاتی سچائی کے ساتھ کرتے ہیں، وہ انہی کا خاصہ ہے:
شب فراق میں بھی زندگی پہ مرتا ہوں
کہ گو خوشی نہیں ملنے کی پر ملال تو ہے
اسی طرح ایک اور مقام پر وہ محبوب کی پشیمانی اور اپنی موت کے منظر کو جس نفسیاتی گہرائی کے ساتھ پیش کرتے ہیں، وہ قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔ عاشق مر چکا ہے اور محبوب اس کی لاش پر پشیمان کھڑا ہے۔ اس وقت عاشق کی روح زندگی کی تمنا اس لیے نہیں کرتی کہ وہ زندہ ہو کر دنیا کے مزے لوٹے، بلکہ محض اس لیے کرتی ہے کہ محبوب کی اس ادائے انفعال پر ایک بار پھر اپنی جان نثار کر سکے:
وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر اب
تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے
مومن کی یہ نفسیاتی بصیرت اور انسانی جذبات کی اتنی باریک اور سچی عکاسی انہیں اردو غزل کا ایک ایسا ماہرِ نفسیات شاعر بناتی ہے جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔
