دنیا کی لسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی دو زبانیں ایسی ہوں جن کا رشتہ اردو اور ہندی جتنا گہرا اور استوار ہو۔ ان دونوں زبانوں کی بنیاد، ڈول اور کینڈا اس قدر یکساں ہے کہ بسا اوقات انہیں ایک ہی زبان کے دو مختلف روپ سمجھ لیا جاتا ہے۔ لسانیات کے کینوس پر جب ہم ان کے خدوخال کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی سرچشمے سے پیدا ہوئیں، گو کہ بعد میں ان کا ارتقا الگ الگ سمتوں میں ہوا اور دو عظیم الشان ادبی روایتیں وجود میں آئیں۔
ان دونوں زبانوں کا شجرۂ نسب تلاش کیا جائے تو ان کا جدِ امجد 'انڈک' زبان ہے۔ ہزاروں سال قبل جب آریہ ہندوستان کے میدانوں میں وارد ہوئے، تو وہ یہی انڈک زبان بولتے تھے، جس کی کوکھ سے چاروں ویدوں نے جنم لیا۔ وقت کے ساتھ اس زبان کے معیاری اور شستہ روپ کو 'سنسکرت' کا نام دیا گیا۔ لیکن زبانیں کبھی ایک جگہ ٹھہرتی نہیں؛ انڈک کے متوازی عوام میں 'پراکرتوں' کا ظہور ہوا، جو وقت کے دھارے میں بہتے بہتے 'اپ بھرنشوں' میں تبدیل ہو گئیں۔ بودھ اور جین مت کا بیشتر قدیم ادب انہی پراکرتوں میں محفوظ ہے۔
ہندوستان کے تہذیبی اور لسانی نقشے میں ایک زبردست انقلاب اس وقت آیا جب دسویں اور گیارہویں صدی عیسوی میں مسلمانوں نے اس خطے میں قدم رکھا۔ عربی، فارسی اور ترکی زبانوں کے اثرات مقامی اپ بھرنشوں میں سرایت کرنے لگے۔ اس وقت شمالی ہندوستان میں شورسینی اپ بھرنش اور سندھ و ملتان کے علاقوں میں کیکئی اپ بھرنش رائج تھی۔ ان مقامی بولیوں اور نووارد مسلمانوں کی زبانوں کے ملاپ سے روزمرہ کی ضرورتوں کے تحت ایک ملی جلی 'ریختہ' زبان نے جنم لیا۔
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا پہلا باقاعدہ تہذیبی اور لسانی ملاپ پنجاب کے میدانوں میں ہوا۔ غزنوی سلاطین، جن کی راجدھانی لاہور تھی، تقریباً ڈیڑھ سو سال تک پنجاب پر حکمران رہے۔ ترک اور افغان اگرچہ ترکی، دری اور پشتو بولتے تھے، لیکن ان کی سرکاری اور تہذیبی زبان فارسی تھی۔ جب یہ فارسی مقامی پنجابی بولیوں سے بغل گیر ہوئی، تو ایک نئی ملواں زبان پیدا ہوئی جسے اس دور میں 'ہندوی' کہا گیا۔ یہی ہندوی دراصل موجودہ اردو اور ہندی کی مشترکہ ماں ہے۔ اس زبان کی قدامت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غزنوی دور کے مشہور فارسی شاعر مسعود سعد سلمان نے اسی 'ہندوی' میں شعر کہے، جس کی تصدیق محمد عوفی اور امیر خسرو جیسے جلیل القدر حوالوں سے ہوتی ہے۔
