کیا ذوقِ سلیم ایک مستقل اور غیر متغیر حقیقت ہے؟ شمس الرحمن فاروقی اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ زمانے کے تغیرات، علم و مطالعہ، تجربے میں اضافے اور عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کا ذوق بدلتا رہتا ہے۔ جو نظمیں ہمیں نوعمری میں پسند ہوتی ہیں، ممکن ہے جوانی یا پختگی کی عمر میں ہم ان کی تحسین کرنے سے کترائیں۔ لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ذوق میں یہ تبدیلیاں اکثر غیر شاعرانہ یا غیر تنقیدی تصورات کی مرہونِ منت ہوتی ہیں۔
اردو شاعری کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بہت سے موضوعات جو ایک زمانے میں مقبول تھے، بعد میں بدمذاقی کی علامت سمجھے جانے لگے۔ مولانا الطاف حسین حالی نے انگریزی تعلیم اور نئے سماجی دباؤ کے تحت کنگھی، چوٹی، قاصد، رشک، معشوق کی ظلم کوشی اور عاشق کی ایذا پسندی جیسے مضامین کو شاعری سے خارج کرنے کی کوشش کی۔ لیکن فاروقی صاحب نشاندہی کرتے ہیں کہ حالی نے ان مضامین کو رد کرنے کے لیے کوئی 'ادبی' یا 'شاعرانہ' دلیل پیش نہیں کی تھی۔
اگر ہم ان کلاسیکی مضامین کا بغور جائزہ لیں تو ان میں بھی وہی فضا اور نازک خیالیاں ممکن ہیں جو کارواں، منزل، مسافر یا بہار و خزاں کے مضامین میں ہیں۔ میر، سودا، درد اور غالب جیسے اساتذہ نے ان نام نہاد 'متروک' مضامین کو بارہا باندھا ہے۔ مثال کے طور پر غالب کا یہ شعر دیکھیے:
بہار حیرت نظارہ سخت جانی ہے
حناے پاے اجل خون کشتگاں تجھ سے
اس شعر میں معشوق کی خوں ریزی اور عاشق کی سخت جانی کا ذکر ہے، لیکن یہ محض ایک اعلیٰ درجے کا شعر ہے۔ اس میں نہ تو کوئی غیر سنجیدگی ہے اور نہ ہی یہ بدمذاقی کا نمونہ ہے۔ فاروقی صاحب استدلال کرتے ہیں کہ اگر ہم سماجی معیارات کی تبدیلی کی بنیاد پر پرانے اشعار کے ایک بڑے گروہ کو مسترد کر دیتے ہیں، تو ہمارا ذوق انتہائی نامعتبر ٹھہرتا ہے۔ شعر کی خوبی یا خرابی اس کے مضمون پر نہیں بلکہ اسلوب اور شعری حسن پر منحصر ہوتی ہے۔ لہٰذا، ذوق کو حتمی معیار مان کر شعری حسن و قبح کے فیصلے کرنا نظری سطح پر ممکن ہی نہیں ہے۔
