بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جب اردو ادب ایک طرف سرسید کی خشک مقصدیّت اور دوسری طرف رومانیت کے خواب ناک سرابوں میں الجھا ہوا تھا، علامہ محمد اقبال نے ادبی افق پر طلوع ہو کر فرد کو 'احمقوں کی جنت' سے باہر نکالا۔ اقبال کی تحریک اردو ادب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس نے فرد کو ایک ایسے نئے فکری اسلوب سے آشنا کیا جو نہ تو مغربی افکار کی اندھی خوشہ چینی تھا، نہ ہی ماضی کے کھوکھلے فخر (پدرم سلطان بود) میں مبتلا تھا، اور نہ ہی اس کی بنیاد کسی خیالی دنیا پر استوار تھی۔
اقبال کی تحریک مزاجاً سرسید کی تحریک سے اثرات قبول کرنے کے باوجود اس سے یکسر مختلف تھی۔ بے شک اقبال کے افکار میں نطشے کے 'فوق البشر' (Superman) کا تصور اور برگساں کے 'ایلان وائٹل' (Elan Vital) کا نظریہ ایک زیریں لہر کے طور پر شامل تھا، لیکن اقبال مغربی تہذیب سے ہرگز مرعوب نہیں ہوئے تھے۔ سرسید اور حالی نے مغربی تہذیب کو دور سے یا سرسری نگاہ سے دیکھا تھا اور اس کی ظاہری چمک دمک سے متاثر ہو گئے تھے۔ اس کے برعکس، اقبال نے یورپ میں قیام کے دوران مغربی تہذیب کی عمارت کو نہایت قریب سے لرزتے اور اندر سے ٹوٹتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس گہرے مشاہدے نے اقبال کے یہاں ایک زبردست خود اعتمادی پیدا کی اور وہ مغرب کی عام روش سے ہٹ کر اپنی قوم کے لیے ایک نئی راہ تراشنے پر مائل ہوئے۔
اقبال کے اس نئے فکری اسلوب کے کئی نمایاں خدوخال تھے۔ اولاً، انہوں نے قوم کو سخت کوشی اور عملِ پیہم کی ضرورت پر زور دیا۔ ثانیاً، انہوں نے مسلمانوں کے شاندار ماضی اور دورِ زریں سے ایسی مثالیں فراہم کیں جو اس سخت کوشی کی اصل ماہیت کو بیان کرنے کے لیے نہایت موثر تھیں۔ ثالثاً، اقبال نے اردو شاعری کے روایتی، انفعالی اور گریہ و زاری والے لہجے کو ترک کر کے ایک بلند آہنگ، گمبھیر اور رجزیہ لہجہ اختیار کیا جو مردہ دلوں میں زندگی کی حرارت دوڑا دینے والا تھا۔
رابعاً، اقبال نے اسالیبِ بیان میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا۔ انہوں نے پٹی ہوئی اور پامال لفظی تراکیب، فرسودہ بندشوں، اور روایتی استعاروں اور تشبیہوں کو متروک قرار دیا۔ ان کی جگہ انہوں نے الفاظ کو ایک نئے تخلیقی رنگ اور فلسفیانہ معنویت کے ساتھ استعمال کرنے کا رویہ پیدا کیا۔ خامساً، اقبال نے اردو ادب کو طوائف کے کوٹھے اور دربار کی گھٹی ہوئی، متعفن فضا سے ہمیشہ کے لیے نجات دلا کر اس میں ایک انوکھی فکری گہرائی سمو دی۔
اقبال کی سب سے بڑی دین یہ ہے کہ انہوں نے ادب کے دامن کو اس قدر وسیع کر دیا کہ اس میں فلسفہ، تاریخ، عمرانیات اور دیگر متعدد علوم سے اخذ کردہ افکار ایک فطری انداز میں جذب ہوتے چلے گئے۔ یہ فکری پھیلاؤ اقبال کی تحریک کا سب سے بڑا ثمر تھا، جس نے ان کے بعد ابھرنے والی تمام ادبی تحریکوں کو متعدد سمتوں سے متاثر کیا اور اردو ادب کے دھارے کا رخ ہمیشہ کے لیے موڑ دیا۔
